اسلام آباد، 26 جنوری (اے پی پی ): سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی دیا مربھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس بدھ کو یہاں عملدرآمد کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین(ریٹائرڈ)نے کی۔
چیئرمین واپڈا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ڈیم کی 13جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کی 10 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے۔ چیئرمین واپڈا نے شرکاء کو دونوں منصوبوں کی تیز تر تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بھی بتایا۔ اُنہوں نے کہا کہ کووڈ19کے علاوہ ضرورت کے مطابق فنڈز کی فراہمی، سکیورٹی کی بدلتی صورتِ حال، اراضی کی تحویل اور دیا مر بھاشا ڈیم کے لئے بلندی پر تعمیر کی جانے والی قراقرم ہائی وے کے اہم حصوں کی تعمیر، ایسے مسائل ہیں جنہیں متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت حل کیا جانا بہت ضروری ہے، بصورت ِ دیگر دونوں منصوبوں کی ٹائم لائنز کے مطابق تکمیل میں دشواری پیش آسکتی ہے۔
اجلاس سے خطاب میں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے عملدرآمد کمیٹی بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے چیئرمین نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ دنیا بھر میں کووڈ19کی بدولت معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں لیکن اِس کے باوجود دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تعمیراتی سرگرمیاں رات دِن جاری ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم کی 13 سائٹس جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کی 10 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام کیا جارہا ہے، دیا مر ،بھاشا ڈیم کے لئے 2029 ء کا ہدف مقررکیا گیا ہے۔ مہمند ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 1.29ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 800میگاواٹ ہے۔ اسی طرح دیا مر بھاشا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے۔











