اسلام آباد۔11جنوری (اے پی پی): وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہا کہ ضمنی مالیاتی بل کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا اور ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ ہے۔ آئی ایم ایف سے جب ہمارے مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے 700 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے پر اصرار کیا تاہم ہم نے مذاکرات میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ پر رضامندی ظاہر کی جبکہ زراعت اور اشیاءخوراک کے لئے رعایتیں بدستور جاری رہیں گی۔ شوکت ترین نے کہا کہ 343 ارب روپے کی جو ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے، اس میں سے 280 ارب روپے ری فنڈ ایبل ہیں، یعنی اس کی واپسی ہو سکتی ہے جبکہ اس کی ایڈجسٹمنٹ کی بھی گنجائش ہوگی۔ اس پوری مشق کا بنیادی مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔ 71 ارب کے جو ٹیکس شامل ہیں وہ لگژری اور پرتعیش اشیاءپر عائد ہوں گے۔ حکومت نے اس ضمن میں 33 ارب روپے کی سبسڈی رکھی ہے
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہراور گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر رضا باقر بھی موجود تھے۔











