اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کے علاقائی سیاسی اور اقتصادی مسائل کے باوجود پاکستان کی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری شعبوں میں ای کامرس کا استعمال پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ گیا ہے ،پاکستان کے نوجوانوں سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام ٹیکنالوجی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاچیرمین سرمایہ کاری بورڈ اظفر احسن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ نے آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے کے لیے ٹیکنالوجی رائونڈ ٹیبل کا انعقاد کیا۔حکومت پاکستان معیشت کو طویل المدت اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے آئی ٹی سیکٹر پالیسی میں سرمایہ کاری بورڈ کو بہت زیادہ مراعات فراہم کی گئی ہیں سیکریٹری سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ 178 ملین موبائل فون صارفین اور 95 ملین انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ، ملک آئی ٹی کے شعبے میں وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ٹیکنالوجی رائونڈ ٹیبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ نے کہا کہ حکومت پاکستان معیشت کو طویل المدت اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کے سرمایہ کاری بورڈ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے اور بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کاروں، عوامی اور نجی شعبے کے درمیان ایک انٹرفیس کے طور پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاری بورڈ پالیسی اور اسٹریٹجک مداخلتوں کے ذریعے کاروباری ماحول کو فعال کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔سرمایہ کاری بورڈ نے آئی ٹی سیکٹر میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے روابط کو بڑھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے پالیسی سازوں، کاروباری برادری اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو اکٹھا کرنے کے لیے ایک ٹیکنالوجی رائونڈ ٹیبل کا اہتمام کیا۔ سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ فارینہ مظہر کی جانب سے پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق اور وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد نے اجلاس سے خطاب کیا۔رائونڈ ٹیبل میں مزید تین سیشن شامل تھے: ای کامرس، کنیکٹویٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن اور آئی ٹی کی برآمدات اور اس میں صنعت کے نامور مقررین جن میں ایم ڈی Daraz.pk، سی ای او جاز، سی ای او ٹیلی نار پاکستان اور دیگر شامل تھے۔ احسن اظفر نے شرکاءکو “پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشیٹو” (PRMI) کے بارے میں آگاہ کیا، جس کی قیادت سرمایہ کاری بورڈ کر رہی ہے اور جس کا آغاز وزیر اعظم پاکستان نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بارآغازکے بعد، یہ حکومتی تمام درجات میں ریگولیٹری منظر نامے کو تبدیل کر دے گا۔چیئرمین نے آگاہ کیا کہ پاکستان کی آئی ٹی سیکٹر پالیسی مقامی اور غیر ملکی مراعات کے لیے کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں چھوٹ جیسی مراعات کا ایک بڑا مجموعہ پیش کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی سیکٹر 100 فیصد تک غیر ملکی ملکیت اور 100فیصد منافع کی واپسی کی بھی اجازت دیتا ہے۔اظفر احسن نے کاروباری رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ پاکستان کے ٹیکنالوجی پر مبنی منظر نامے کووسعت دینے کے نئے طریقے تلاش کریں اور اس پلیٹ فارم کا بہترین استعمال کریں۔سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے پاکستان میں متعارف کرائی گئی آئی ٹی سیکٹر کی مخصوص اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ڈیجیٹل سروسز کے غیر ملکی دکانداروں کے لیے ادائیگی کی حد کو 100,000ڈالر سے بڑھا کر 400,000 ڈالر کر دیا ہے اور 100,000 ڈالر سے زیادہ کی ادائیگی کے لیے سٹیٹ بنک آف پاکستان کی منظوری کو ڈیجیٹل خدمات کے لیے معاف کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2015 سے، حکومت پاکستان نے ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف پالیسیاں متعارف کروائی ہیں، جن میں سے کچھ میں ٹیلی کام پالیسی، ڈیجیٹل پاکستان پالیسی، ای کامرس پالیسی، نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی وغیرہ شامل ہیں۔سیکرٹری نے وضاحت کی کہ پاکستان سالانہ تقریباً 25000 آئی ٹی گریجویٹس تیار کرتا ہے اور فری لانسنگ کے لیے مقبول ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ 178 ملین موبائل فون صارفین اور 95 ملین انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ، ملک آئی ٹی کے شعبے میں وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے سامعین کو بتایا کہ ایس ای سی پی کے ساتھ 3000 سے زائد بین الاقوامی ٹیکنالوجی فرمیں رجسٹرڈ ہیں جن میں Intel، Microsoft، Amazon، Samsung وغیرہ شامل ہیں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔خصوصی ٹیکنالوجی زونز کے لیے متعارف کرائی گئی کچھ مراعات کی وضاحت کرتے ہوئے، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے 10 سال کے لیے انکم ٹیکس میں چھوٹ کا ذکر کیا جس میں ڈیویڈنڈ اور کیپٹل گین، کسٹم ڈیوٹی اور 10 سال کے لیے کیپٹل گڈز پر ٹیکسوں میں چھوٹ،جنرل سیلز ٹیکس سے چھوٹ۔ پلانٹ، مشینری، آلات اور خام مال کی درآمد اور 10 سال کے لیے پراپرٹی ٹیکس سے استثنیٰ شامل ہیں۔۔ مشیر تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان آئی ٹی کے شعبے کے لیے مالی طور پر پرکشش آوٹ سورسنگ مقامات میں سے ایک ہے جہاں تیزی سے ترقی کرتی تیسری فری لانس مارکٹ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان برآمدات پر توجہ دے کر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ رزاق داؤد نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پاکستان کے نوجوانوں سے بہت سی امیدیں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان کا معاشی مستقبل روشن ہے۔ٹیکنالوجی رائونڈ ٹیبل کانفرنس پاکستان کے فروغ پزیر آئی ٹی سیکٹر میں مواقع ظاہر کرنے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ کاروباری رہنما آگے بڑھیں اور شرکاءکو اپنی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا جس نے شرکاءکو سرمایہ کاری کے مواقع اور چیلنجز کے بارے میں بصیرت فراہم کی اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو ترغیب دی۔











