فنانس بل کی منظوری  حکومت کی کامیابی  ہے ، اپوزیشن کے اپنے  اراکین  اجلاس سے غیر حاضر  رہے؛ مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر

26

لاہور، 14جنوری (اے پی پی) :  وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ فنانس بل کی منظوری  حکومت کی کامیابی  ہے ، اپوزیشن کے اپنے  اراکین  اجلاس سے غیر حاضر  رہے ، طے شدہ بات ہے کہ شہباز شریف منی لانڈرر ہیں شہباز شریف نے جتنی بھی درخواستیں دیں سب مسترد ہوئیں، آج شہباز شریف  اور انکے  مہنگے ترین وکلاء ناکام  ہو  گئے ہیں۔وہ جمعہ کے روز ایوان وزیر اعلیٰ  میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ بلاول نان سیریس کیریکٹر ہے جس کا جواب دینا نامناسب ہے،حریم شاہ پر ایف آئی اے نے نوٹس لیا ہے اور انکوائری شروع کی ہے،منی لانڈرنگ پر مذاق نہیں بنتابرطانوی ایجنسی سے بھی یہ ویڈیو شیئر کی گئی ہے تاکہ وہ بھی ریکارڈ دیکھیں، ایسی چیز مذاق کے قابل نہیں۔انہوں نے کہا کہ  سلمان شہباز کا برطانیہ میں کیا سٹیٹس ہے یہ بڑا اہم سوال ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ ایف آئی اے کا ماننا ہے کہ بینکرز کا کردار بطور ریگولیٹری ناکام تھا تاہم بینکرز کے کسی مجرمانہ فعل میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہےیہ کیس شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد ایف آئی اے کا بنا کیونکہ رمضان شوگر ملز کے ریکارڈ سے خفیہ اور بے نامی اکائونٹس سامنے آئے،شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان سے اس بارے نہ پوچھا جائےآپ بچوں کے والد ہیں کیسے نہ پوچھیں آپ کے چیف منسٹر ہوتے ہوئے، بچوں کے کاروبار دن دگنی رات تگنی ترقی کرتے ہیں، رمضان شوگر شہباز شریف کی بنائی ہوئی مل ہے اور شہباز شریف کی وجہ سے منی لانڈرنگ ہوئی کیونکہ آپ وزیر اعلی تھے، اس لیے بینک آپ سے نہیں پوچھ سکتےبتایا جائے اورنگزیب بٹ کا معاملہ کیا ہے،مسرور نائب قاصد کے اکاونٹ میں رقم جمع بھی کرواتا ہے اور نکلوا کر آپ کے اکاؤنٹ میں جمع کرواتا ہے،ہمیں کئی گھنٹے بھاشن دینے والے بتائیں کہ رقم اکاؤنٹ میں کیسے آئی۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ نظام میں کمزوری ہے لیکن کیسز بہت مضبوط ہیں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے، کابینہ یا پارلیمانی پارٹی میں لیکن بات کبھی آگے نہیں بڑھی ہاؤس آف شریف میں تبدیلی دیکھ رہا ہوں کیونکہ ہر ہفتے قیادت کرنے والا گھوڑا تبدیل ہوجاتا ہے،شہباز شریف کے کارنامے وزیر اعلی شپ سے اترنے کے بعد سامنے آئے ہیں، ہر پیشی پر شہباز شریف عدالت سے باہر نکل کر ٹوپی گھمانے کی کوشش کرتے ہیں جس کا جواب آئے گاان کی کرپشن سامنے آئی تو ہم عدالت گئے عظمیٰ بخاری کے پاس ثبوت ہیں تو اینٹی کرپشن نیب اور ایف آئی اے کے پاس جائے۔شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ بے نامی اکاؤنٹ ہولڈر ان کے ملازمین تھے، بینکرز کے رول پر ایف آئی اے نے رپورٹ اسٹیٹ بینک کو پیش کر دی، ایف آئی اے سمجھتا ہے کہ بینکرز کا کردار بطور ریگولیٹری تھا،بینکرز کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے، اسٹیٹ بینک اپنی ریگولیٹری پالیسی کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بھائی کی ضمانت دی لیکن عدالتی حکم کی پاسداری نہیں کی نواز شریف نے آج تک اپنی میڈیکل رپورٹس ہی جمع نہیں کروائی، نواز شریف نے صرف ایک میڈیکل لیٹر جمع کرایا ۔انہوں  نے کہا کہ نواز شریف کا کیا علاج ہوا کچھ نہیں بتایا گیا نواز شریف کے معاملے پر شہباز شریف پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے،عدالت شہباز شریف کو پابند کر سکتی ہے کہ نواز شریف کو لایا جائے،ان کا پوچھنا تھا کہ نواز شریف ملک دشمن عناصر سے ملاقات کر سکتے ہیں تو واپس کیوں نہیں آسکتے۔

سورس؛وی این ایس، لاہور