اسلام آباد،28جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں بھارت کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی ممکن نہیں،اس کے لئے بھارت کو حالات سازگار بنانا ہونگے۔بھارتی سوچ اور اقدام خطے کے امن کیلئے خطرناک ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اگلے ہفتے چین کا دورہ کرینگے،سی پیک کی رفتار سست ہونے کا تاثر درست نہیں،او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 22 اور 23مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا۔
جمعہ کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن نئی دہلی نے کبھی بھی مثبت جواب نہیں دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 26 جنوری کو دنیا بھر مین کشمیریوں نے بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا، بھارت سات دہائیوں سے کشمیر میں انسانیت پرمظالم ڈھا اور عالمی قوانین کو توڑ رہا ہے، دنیا کشمیر کی صورتحال سے آگاہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کے مظالم دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہیں، بھارتی سوچ اور اقدام خطے کے امن کیلئے خطرناک ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی کے حالات نہیں، بھارت کو اس حوالے سے حالات سازگار حالات پیدا کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے امن کی بہت کوششیں کیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت نے دوستی اور بات چیت کا مثبت جواب نہیں دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کو واہگہ کے ذریعے افغانستان میں گندم بھیجنے کی بھی اجازت دی، لیکن اس نے ابھی تک نہ تاریخ کا بتایا نہ ہی ٹرکوں کی تفصیلات دیں، بھارت اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم نہیں کر رہا۔عاصم افتخار نے کہا کہ جعلی معلومات پر بھارت دنیا میں بے نقاب ہوچکا ہے، بھارت پاکستانیوں کے یوٹیوب چینلز کو جعلی قرار دے کر بلاک کرا رہا ہے اور اظہار رائے پر پابندی لگا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پریس کلب کی بندش صحافیوں کی گرفتاری اس کی واضح مثال ہے۔بھارت پاکستان پر الزامات عائد کر کے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے ٹارگٹ کرتا ہے، لیکن اب خود عالمی اداروں نے جھوٹے پروپیگنڈے پراسے بے نقاب کردیا۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ سی پیک کی رفتار سست ہونے کا تاثر درست نہیں۔ کورونا کے باوجود سی پیک پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اہم منصوبہ ہے دورے کے دوران اسکی پیشت رفت کا جائزہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بیجنگ سرمائی اولپمنکس کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوں گے، اس کے علاؤہ وزیر اعظم اعلی چینی قیادت سے ملاقات کریں گے، ان کے دورہ چین کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بات ہوگی۔
ترجمان نے بتایا کہاو آئی سی وزرایے خارجہ کا کونسل کا اجلاس 22 اور 23مارچ کو اسلام آباد میں ہوگا، وزیر خارجہ کی او آئی سی سیکرٹری جنرل سے فون پر بات ہوئی ہے، افغانستان پر او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس اور کشمیر کی صورتحال پر بات گقتگو ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھی حوثی باغیوں کے مزید حملوں کو مذمت کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے معید یوسف کا بیان غلط رپورٹ ہوا۔











