اسلام آباد،28جنوری (اے پی پی):پاکستان الیکٹرانک شواہد پر اپنی مرضی کے مطابق گائیڈ متعارف کرانے والا پہلا ملک بن گیا، وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے سرحد کے پار الیکٹرانک شواہد سے متعلق کسٹمائزڈ عملی گائیڈ کا اجرا کر دیا، جس سے پاکستان ایسی دستاویز جاری کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔
جمعہ کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے پریکٹیکل گائیڈ کے باضابطہ آغاز میں شرکت کی جسے پاکستان ایکشن ٹو کاؤنٹر ٹیررازم (پی اے سی ٹی) منصوبے کے تحت یورپی یونین سمیت اہم شراکت داروں کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے اپنے ملکی قانونی فریم ورک اور طریقہ کار کے مطابق اپنی عالمی کسٹمائزڈ عملی گائیڈ بنانے کے لئے یو این او ڈی سی کے ساتھ شراکت کی ہے۔ یہ گائیڈ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو غیر ملکی دائرہ اختیار سے اہم الیکٹرانک شواہد تک رسائی اور دہشت گردی کے جرائم کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے میں بھر پور معاونت فراہم کر ے گا۔پریکٹیکل گائیڈ وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان سائبر اسپیس کے غلط استعمال سے لاحق خطرات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی سائبر سیکیورٹی پالیسی کے مطابق حکومت اپنے نظام کو جدید بنانے، ان کی کارکردگی بڑھانے اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے۔سیکرٹری خارجہ نے وزارت خارجہ کی طرف سے کام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ملکی قیادت کے وژن کے مطابق دفتر خارجہ نے نئے آن لائن پلیٹ فارمز، پورٹلز، موبائل ایپلیکیشنز اور کنیکٹیویٹی پروٹوکول متعارف کرائے ہیں ،جس سے نہ صرف وزارت کے روزمرہ کے کاموں کو ہموار کیا جا سکے گا بلکہ پاکستانیوں کو خدمات کی فراہمی کو بھی بہتر بنایا جا ئیگا۔
تقریب سے یو این او ڈی سی کے کنٹری نمائندے جیریمی ملسم، یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کمنارا اور وزارت داخلہ اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے سینئر حکام نے خطاب کیا ۔











