اسلام آباد،6جنوری (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور عمان کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات ہیں جو مشترکہ ثقافت، بھائی چارے اور عوامی روابط پر مبنی ہیں، پاکستان عمان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی تعلقات کا خواہاں ہے۔
یہ بات انہوں نے عمانی تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جس نے یہاں جمعرات کو ان سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت عمان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین رضا جمعہ محمد علی الصالح کر رہے تھے جبکہ عمان سے پاکستانی تاجر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ عمان کے 22 رکنی وفد نے وزیراعظم کو بتایا کہ 20 سال بعد پہلی بار عمانی وفد کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے پاکستان کے دورے پر ہے۔ موجودہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیاں سیاحت کی ترقی، فشریز سیکٹر، بندرگاہی شہروں میں سٹوریج اور وئیر ہاؤسنگ اور گوادر میں ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
وفد نے عمان اور پاکستان کے ساحلی شہروں کے درمیان فیری سروس،سی پیک منصوبوں، خاص طور پر گوادر کی صنعت کاری، زرعی شعبے اور عمان اور پاکستان کے درمیان زمینی اور سمندری راستوں پر مشتمل ایک مجوزہ کوریڈور میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی ظاہر کی جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کو ملائے گا اور پاکستان کو اس میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔
ملاقات میں کووڈ وباء کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کے تعاون اور عمان میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی میں سلطنت عمان کی طرف سے مدد کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ دونوں فریقین نے مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون اور باہمی تجارت بڑھانے کے اقدامات پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف کوویڈ۔19 کے دوران عمانی حکومت اور تاجر برادری کا پاکستانیوں کی معاونت کا خیرمقدم کیا بلکہ متعلقہ حکومتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ عمان اور پاکستان کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں۔
ملاقات میں وفاقی وزراء شوکت فیاض ترین، مخدوم خسرو بختیار، وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد، معاونِ خصوصی سی پیک خالد منصور، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ اظفر احسن، متعلقہ حکام، عمانی تاجروں کا وفد، عمان سے پاکستانی نژاد تاجر اور عمان میں کام کرنے والے پاکستانی تاجروں نے شرکت کی۔











