یونین کونسل کی سطح سے وفاق تک پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کے تحت امن کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں ؛طاہر محمود اشرفی

19

لاہور،27جنوری  (اے پی پی):چیئرمین متحدہ علماء بورڈ و پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ متحدہ علماء بورڈ پنجاب  کی  3 سالہ  کارکردگی  سے مذہبی  ہم آہنگی  کا فروغ ممکن  ہوا،  یونین   کونسل  کی سطح  سے  وفاق  تک  پیغام  پاکستان  ضابطہ اخلاق کے تحت امن کمیٹیاں  قائم  کی   جا رہی ہیں، متحدہ  علما بورڈ پنجاب نے 326 درسی کتب  کو فرقہ واریت اور مذہبی  منافرت سے پاک کر دیا ہے ۔

یہ بات   انہوں نے  جمعرات کو  یہاں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ متحدہ علما بورڈ پنجاب کی تشکیل 1997 میں ہوئی جسے 19فروری 2019 کو میری سربراہی میں سونپا گیا اور تب سے آج تک کی کارکردگی نہایت حساس اور اہم رہی ہے ہم نے تمام مسالک کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دیا اور یوں شدت پسندی میں میں بے حد کمی دیکھنے میں آئی، ہم آہنگی کے شاندار مظاہر بلاشبہ محرم الحرام اور میلاد کے دنوں میں دیکھنے میں آئے امن و امان قائم رہا اور مسلکی و فقہی رواداری کی مثالیں قائم کی گئیں ،اس حوالے سے ہمارے قانون نافذ کرنے والے اور قومی سلامتی کے محافظ اور ذمہ دار اداروں کی معاونت بھی شاندار رہی۔انہوں  نے  کہا کہ  متحدہ علما بورڈ نے گذشتہ ادوار کے 68 مقدمات کے فیصلے کئے جن میں سے میری سربراہی میں 140 مزید مقدمات خوش اسلوبی سے نمٹائے گئے کچھ مقدمات تو 2014سے تاخیر کا شکار تھے اس دوران بورڈ نے 39اجلاس کئے۔

 نصاب تعلیم کے حوالے سے طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ اب تک 326کتابیں متحدہ علما بورڈ کے اراکین نے حرف حرف دیکھنے کے بعد پاس کی ہیں ان میں مذہبی شدت پسندی یا مسلکی منافرت کے حوالے سے ایک بھی لفظ نہیں پایا جاتا ۔انہوں  نے کہا کہ اب توہین مذہب یا توہین رسالت کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں کیونکہ اس حوالے سے قوانین موجود اور فعال ہیں اور اب ان قوانین کے غلط استعمال کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، سیالکوٹ میں ایک سری لنکن شہری کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی شرمناک تھا مگر پوری قوم نے یک آواز ہو کر اس کی مذمت کی اور عالمی سطح پر یہ پیغام گیا کہ اب پاکستان میں شدت پسندی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے ۔

 طاہر اشرفی نے   کہا کہ وزیر اعلی اور وزیر اعظم سے گذارش ہے کہ علما حفاظ مدرس مؤذن اور دینی علوم کے طلبا کو بھی نیا پاکستان قومی صحت کارڈ دیا جائے تاکہ علاج معالجے کی فکر سے چھٹکارا پا کر وہ جو خدمات سرانجام دے رہے ہیں اُن میں یکسوئی پا سکیں۔

 ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ درسی کتب کے حوالے سے ٹیکسٹ بک بورڈ نے ہمیں پرائمری کی سطح تک کی کتب جانچ پڑتال کے لئے بھجوائی تھیں وہ ہم نے دیکھ کر پاس کر دی ہیں جیسے جیسے اگلے درجات کی کتب ہمارے پاس آئیں گی ہم انھیں عرق ریزی سے جانچ پڑتال کے بعد پاس کریں گے۔