جون 2021 تک بنکوں نے 1365 ارب روپے کے قرضے کسانوں کو دیئے ؛ گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان رضا باقر

30

لاہور، 22 فروری (اے پی پی ):گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان رضا باقر نے کہا ہے کہ زراعت کا پاکستان کی  معیشت میں 25 فیصد حصہ ہے، گذشتہ سال سٹیٹ بینک نے نجی بنکوں کو زراعت کیلئے 1500 ارب روپے  کے قرضوں کا ٹارگٹ دیا، جون 2021 تک بنکوں نے  1365 ارب روپے کے قرضے کسانوں کو دیئے،گوداموں کی تعمیر کے لیے سٹیٹ بنک نے چھ فیصد شرح سود پر  ساڑھے دس ارب روپے دیئے ہیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نےقصور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبے میں جو مسائل ہیں اس پر ہمیں کام کرنا ہے پاکستان میں زراعت ہماری معیشت کا چالیس سے 45 فیصد ہے اوکاڑہ اور قصور بیلٹ سے مکئی کی 25 فیصد پیداوار حاصل ہوتی ہےہمارے 90 فیصد کسان چھوٹے کاشتکار ہیں بنک اپنے سرمایے میں سے 40 فیصد صرف نوے فیصد چھوٹے کسانوں کو رکھتا ہے ہم نے بنک کو مزید ٹارگٹ بڑھانے کے لئے بات کی کہ وہ کسانوں کے لئے قرضوں کی ادائیگیاں بڑھائیں ۔

گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان رضا باقر نے کہا کہ کسانو‌ں کو اگلی فصل لگانے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اس نظام سے انہیں مدد ملے گی، کسان ایک جدید گودام میں اپنی فصل ذخیرہ کر سکے گا اور ڈیجیٹل طریقے سے ملنے والی رسید سے وہ بنک سے قرضہ لے سکے گا، ہم نے جو قانون اور اقدامات کرنے تھے وہ ہم نے ایک سال پہلے مکمل کر لئے تھے۔انہوں نے   کہا کہ میرا سرمایہ داروں کو پیغام ہے کہ وہ ایسے وئیر ہاوس مزید بنائیں بنکوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ کسانوں کو مزید قرض دینے کے لئے اقدامات کریں ہمیں اس وقت اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لئے پنجاب حکومت کے تعاون کی مزید ضرورت ہے اس نظام کو کامیاب بنانے کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے گی سٹیٹ بنک نے وئیر ہاوس بنانے کے لئے بھی قرضے فراہم کرنے کے لئے رقم مختص کی ہے۔