زونوٹک بیماریاں؛ مارکیٹوں میں قصائیوں اور اشیاء خوردونوش کی دوکانوں کو ایک دوسروں سے دور قائم کیا جائے

80

چترال،23 فروری (اے پی پی): چترال میں اکثر مرغیوں اور قصائیوں  کی دکانیں ایسی جگہوں میں واقع ہیں  جہاں ان کے ساتھ متصل  سبزی، پھل، بیکری، مٹھائی وغیرہ  کی دکانیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ سلاد، پھل اور بیکری  وغیرہ لوگ بغیر پکائے  کھاتے ہیں۔ طب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قصائیوں  اور مرغیوں کے دکانوں کے قریب اگر یہ چیزیں  پڑی ہو تو ان سے زونوٹک  بیماریاں لگتی ہیں۔

 ڈاکٹر ریاض نے اس فیلڈ میں ایم فل کیا ہے  ان کا کہنا ہے کہ  زونوٹک ڈیزیز وہ بیماریاں ہیں جو  جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے جانوروں کو  لگتی ہیں ان بیماریوں کی تعداد 360 سے زیادہ ہیں۔

چند سال پہلے ریلیف انٹرنیشنل نامی ایک ادارے نے  اس پر باقاعدہ  ضلعی انتظامیہ، قصائی، مرغ فروش اور سول سوسائٹی کے اراکین کو تربیت بھی دی تھی۔ اس میں لوگوں کو خبردارکیا گیا تھا کہ جو چیزں  بغیر اُبالے  ہوئے یعنی پکانے کے بغیر ہم کھاتے ہیں  انہیں مرغیوں اور  گوشت کے قریب  نہیں رکھنا چاہئے  ورنہ زونوٹک بیماریاں لگنے کا خطرہ ہے۔

سابقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک نے  بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ احتیاط کے طور پر  مرغیوں  اور قصائیوں کی دکانیں  الگ مارکیٹ میں  یا پھل اور بیکری کی دکانوں سے دور قائم کی جائے  تاکہ لوگوں کی جانوں کو ان بیماریوں سے  خطرہ نہ ہو۔