فیصل آباد ،11فروری (اے پی پی):ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت میاں نبیل ارشدنے جمعہ کوہیلتھ کارڈکے بارے میں رجسٹریشن و عوامی آگاہی کیلئے وزیر مملکت اطلاعات و نشریات میاں فرخ حبیب کے حلقہ نیابت میں سمندری روڈ5 نمبر سٹاپ اور وارث پورہ فیصل آباد میں قائم کئے گئے صحت کارڈ رجسٹریشن کیمپوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی ٹیم این اے108 اور پی پی 107 کے ارکان اور کارڈ ہولڈر اہلیان علاقہ سے بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نیا پاکستان کے ویژن کے تحت فیصل آباد سمیت ڈویژن کے ہر شہری کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا ایک تاریخ ساز اقدام ہے جس سے اب ہر گھرانہ سالانہ 10 لاکھ روپے تک کسی بھی اعلان کردہ بیماری کی صورت میں اپنے پسند کے سرکاری و پرائیویٹ اورپینل پر موجود بڑے سے بڑے نجی ہسپتال سے باعزت طور پر ایک روپیہ بھی خرچ کئے بغیر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا علاج کر واسکتا ہے۔
میاں نبیل ارشد نے کہاکہ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کی ہدایت پر ان کی ٹیم ہیلتھ کارڈز کے حوالے سے ہسپتالوں کی مسلسل مانیٹرنگ بھی کرے گی تاکہ کسی بھی جگہ کسی بھی شہری کو اپنے علاج معالجہ کے ضمن میں کوئی مشکل یا دشواری پیش نہ آسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں محکمہ صحت کے حکام سے بھی رابطہ رکھا جا رہا ہے لہٰذا اگر کسی جگہ کوئی رکاوٹ درپیش آئی تو اسے فوری دور کردیا جا ئے گا۔
میاں نبیل ارشد نے کہا کہ اس سہولت سے ہر شخص بلاامتیاز خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا گروپ سے ہو بلا تفریق برابری کی بنیاد پر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا علاج معالجہ کر واسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار امیر غریب یا متوسط و سفید پوش یا کسی دیگر حیثیت کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے سب کو مساوی یہ سہولت دی جا رہی ہے۔ اب کوئی بھی شہری 8500 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر سینڈ کرکے قومی صحت کارڈ کے بارے میں اپنے خاندان سے متعلق معلومات یا ہیلپ لائن 080009009 سے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔
اس موقع پر بعض افرادنے اپنے شناختی کارڈ اور اپنے اہل خانہ کے بعض افراد کی تاحال نادرا میں رجسٹریشن نہ ہونے سمیت بعض دیگر مسائل کی نشاندہی کی جس پر انہوں نے متعلقہ نادرا و دیگر حکام کو ضروری ہدایت بھی جاری کی جبکہ انہیں ہیلتھ کارڈ پینل پر موجود ہسپتالوں کی فہرست بھی فراہم کی گئی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما میاں محمد ارشد،چوہدری کاشف گجر،چوہدری عبدالرحمن رحمانی،محمد ثاقب علی،میاں محمد رضوان و دیگر بھی موجود تھے۔











