ملتان، 22 فروری (اے پی پی ): پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی اور نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے اشتراک سے ہومن آرگن ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد حیات ظفر آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ سیمینار کے مہمان خصوصی سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر احمد جاوید قاضی تھے۔
وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رانا الطاف نے اپنے استقبالیہ خطاب میں معزز مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور بعد از مرگ عطیہ اعضاء کے حوالے سے منعقدہ سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے ساؤتھ پنجاب میں جگر کی پیوندکاری کے سنٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلیٰ حکام کی توجہ اس طرف مبذول کرائی۔
سیمینار میں پنجاب بھر کے ماہر ڈاکٹرز نے دل، آنکھوں، گردوں اور جگر کی پیوندکاری کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ممبر نیشنل اسمبلی احمد حسن ڈیہڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کارنیا ٹرانسپلانٹ ہسپتال کا قیام میرا خواب تھا۔ آپ کی عطیہ کی گئی آنکھوں سے اگر کسی کی بینائی لوٹ آئے اس بڑی خوشی اور نیکی کیا ہو سکتی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ڈاکٹر اسد اسلم نے پہوٹہ کے اغراض ومقاصد اور طریقہ کار بارے بریفنگ دی۔
سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ہومن آرگن ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے آگاہی سیمینار کے انعقاد کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے منتظمین اور مقررین کی کاوشوں کو خوب سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عطیہ اعضاء خصوصاً بعد ازمرگ عطیہ اعضاء کو فروغ دینے اور اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری کی روک تھام کے لئے ایسے آگاہی پروگرام کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا مزید کہنا تھا کہ اعضاء عطیہ کرنے والوں کیلئے بلخصوص فل باڈی ڈونر کے لیے قومی اعزاز کے لیے بھی حکومت پاکستان سے بات کی جائے گی۔
دیگر شرکاء میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ساؤتھ پنجاب نادر چٹھہ، ڈائریکٹر جنرل پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی ڈاکٹر اسد اسلم، وائس چانسلر ایم این ایس زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر آصف علی, پرنسپل نشتر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین سمیت دیگر میڈیکل کالجز کے پرنسپل صاحبان، ایم ایس نشتر ہسپتال ڈاکٹر امجد چانڈیو، سینئر فیکلٹی ممبران اور سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔











