اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گل نے کہاہے کہ شہباز شریف اور ان کے بچو ں کی کرپشن کی کہانیوں کے بعد دستاویزات بھی رفتہ رفتہ منظر عام پر آرہی ہیں ، ان کو لوٹا ہو ا پیسہ واپس کرنا پڑے گا،شہباز شریف نے اپنی کرپشن کے حوالے سے بی بی سی کی سٹوری، وال سٹریٹ کی سٹوری ، ریمنڈ بیکر کی کتاب اور پاناما پیپرز میں ہونے والے انکشافات پرکوئی جواب دیا نہ ہرجانے کا کوئی کیس کیا، عمران خان ایسے بندے کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ اس سب کے باوجو د ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ عمران خان شہباز شریف کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کیوں نہیں کرتے ، آپ احتساب کے معاملے کو چھوڑیں آپ ان کے ساتھ بات چیت کرکے آگے بڑھیں لیکن ہمیں کوئی اس بات کا جواب نہیں دیتا کہ بی بی سی نے ان کی کرپشن پر جو سٹوری کی اس پر انہوں نےآج تک کوئی جواب کیوں نہیں دیا ۔اگر بی بی سی نے غلط سٹوری دی تھی تو یہ کورٹ میں کیس کرتے ،وال سٹریٹ نے اگر ان کی کرپشن پر سٹوری کی ہے تو اس پر نہ انہوں نے ہرجانے کا نوٹس بھیجا نہ جواب دیا ۔ریمنڈ بیکر نے اپنی کتاب میں ان کی کرپشن کی ہوش ربا تفصیلات دیں، آج تک انہوں نے ریمنڈ بیکر کو جواب نہیں دیا ۔آئی سی آئی جے میں پاناما میں جو کچھ منکشف ہوا ، انہوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے کیلبری فونٹ کے ساتھ جعلی دستاویزات دیں ۔انہوں نے کہاکہ میں آج جواب دوں گا کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ فیصلہ کیوں کیا تھا کہ وہ شہباز شریف جیسے کرپٹ آدمی کے ساتھ بات نہیں کریں گے ،ہاتھ نہیں ملائیں گے اور یہ فیصلہ آخر کار درست ثابت ہوا ۔1990میں شہباز شریف اپنے ٹیکس ریٹرن میں بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹوں اور ان کی بیگمات سمیت تمام اثاثہ جات کی کل مالیت 21لاکھ روپے تھی اور آج ان کے چپڑاسیوں کے پا س بھی چار چار ارب روپیہ ہے ۔اسی خاندان کے 1998میں جو ٹیکس ریٹرنز جمع کرائے گئے ان کے مطابق ان کا مجموعی سرمایہ ایک کروڑ48 لاکھ روپیہ تھا ۔ 2018میں اس خاندان کے ایک ایک بندے کے پاس 7،7 اور 8،8 ارب روپے کی پراپرٹی آگئی ۔اب جو ڈاکومنٹس سامنے آرہے ہیں ان میں 9000 روپے تنخواہ لینے والے ان کے ایک چپڑاسی ملک مقصود کے اکائونٹ میں اربوں روپے نکلے ۔شہباز گل نے کہاکہ شہباز شریف اپنی گاڑی میں عدالت آئے اور پیچھے کرائے کی ایمبولینس لائے اور یہ کہاکہ میں تو ایمبولینس میں آیا ہوں ۔ایسے بندے کے ساتھ عمران خان کیسے ہاتھ ملا سکتا ہے ،عمران خان ایسانہیں کرے گا ۔شریف خاندان کو لندن کے ڈاکٹروں پر بہت بھروسا ہے لیکن پاکستانی ڈاکٹرز ان سے کہیں زیادہ قابل ہیں ، اسی لیے پاکستانی ڈاکٹرز کو امریکا سمیت پوری دنیا میں ہائر کرلیاجاتا ہے ۔انسداد بدعنوانی کے اعلیٰ ترین برطانوی ادارے این سی اے کی دستاویز کے مطابق سلمان شہباز بتارہے ہیں کہ وہ اپنے ملک واپس نہیں جاسکتے کیونکہ وہاں پر ان کے خلاف کریمنل کیسز ہیں جو غلط طریقے سے بنائے گئے ہیں ۔اس لیے انہیں ایسا ویزہ دیاجائے جس میں وہ وہاں کے لوگوں کو روزگار دیں گے ۔یہ ویزہ شروع میں دو برس کا ہوگا اور پھر یہ مستقل قیام میں تبدیل ہوجائے گا ۔انہوں نے جس طرح پہلے ملک مقصود چپڑاسی کو پاکستان میں امیر کیا اب یہ برطانیہ کے کسی مائیکل کو امیر کریں گے اور اس کے اکائونٹ میں شائد چار ارب نکلیں گے ۔جن کے چپڑاسیوں کے اکائونٹس سے چار ارب روپے نکلتے ہیں ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ برطانیہ کے این سی اے ڈاکومنٹ کے مطابق سلمان شہباز کاکہنا ہے کہ ان کے پاس جیب خرچ کے پیسے نہیں ہیں ۔ان کے ذوالفقار نامی اے ٹی ایم انہیں جیب خرچ کی مد میں پیسے دیتے ہیں ۔انہوں نے کروڑوں روپے جیب خرچ کی مد میں لیے ۔شہباز شریف نے نیب میں بیان دیاکہ ہم نے2005میں انیل مسرت سے قرضہ لے کر ایک اپارٹمنٹ خریدا اور برطانیہ کے ہی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جب یہ اپارٹمنٹ کروڑوں روپے میں بکا تو اس کا پیسہ انیل مسرت کو واپس نہیں گیا بلکہ وہ پیسہ سلمان شہباز کے اکائونٹ میں گیا ۔یہ پیسہ دو مختلف اوقات میں گیا ۔شہباز گل نے کہاکہ شریف خاندان نے برطانیہ سے یہ ڈاکومنٹس پبلک نہ کرنے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نے ان کی اپیل خارج کرکے یہ دستاویزات پبلک کی ہیں ۔پاکستان میں یہ کہتے ہیں کہ میرا حمزہ شہباز سے کوئی کاروباری لین دین نہیں ہے ۔











