کشمیر میں دہائیوں سے جاری بربریت انسانی حقوق کے تمام علمبرداروں کے لیے ایک سلگتا سوالیہ نشان ہے

33

اسلام آباد، 04 فروری ( اےپی پی): کشمیر میں دہائیوں سے جاری  بربریت  انسانی حقوق کے تمام  علمبرداروں کے لیے ایک سلگتا  سوالیہ  نشان  ہے۔بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین مسلسل خوف و دہشت ، عدم تحفظ ، اور ظلم و تشدد  کا شکار ہیں

کشمیری عورتیں  دہائیوں  سے    بدترین  بھارتی جنگی جرائم کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ سیاہ قوانین قابض افواج کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔دہائیوں سے جاری بھارتی    استبداد  کے دوران اب تک  ہزاروں   کشمیری خواتین بھارتی افواج کے ہاتھوں درندگی اور عصمت دری کا شکار ہوچکی ہیں،جبکہ  لا تعداد    خواتین بیوہ    اور ہزاروں خواتین’’ نیم بیوہ‘‘ کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہیں۔نیم بیوہ  سے مراد  وہ خواتین ہیں  جن کے شوہر لاپتہ ہو چکے ہیں اور ابھی تک اُن کے متعلق کوئی معلومات نہیں مل سکی۔ان خواتین   کے شوہروں ، بھائیوں اور بیٹیوں کو ان  کی آنکھوں کے سامنے بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔