لاہور،27 فروری (اے پی پی): گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور سے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی ایمون گلمور نے پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اینڈرولا کامینارا اور دیگر کے ہمراہ گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی جس میں یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان تعلقات ،تجارت کے فروغ،جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع سمیت دیگر ایشوز کے بارے میں بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں ایمون گلمور نے پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا۔
گورنر پنجاب نے بھارت میں اقلیتوں کیساتھ مظالم بارے حقائق بھی یورپین یونین کے نمائندہ خصوصی اور دیگرکے سامنے رکھے اور مطالبہ کیا کہ کشمیر یوں اور بھارتی اقلیتوں کیساتھ ہونیوالے مظالم کا یورپی یونین نوٹس لے۔
ملاقات کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کیلئے پاکستان کی حمایت پر یورپی یونین کے نمائندوں کا شکر یہ اداکرتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کی وجہ سے 2014 کے بعد سے ابتک ہماری برآمدات دو گنا ہو چکی ہیں اور 20ارب ڈالرز سے زائد کا پاکستان کو فائدہ ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپین یونین پاکستان کا اہم تجارتی پارٹنر ہے، جی ایس پی پلس سٹیٹس کا ہماری معیشت میں اہم کردار ہے، ہم یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ 27 شرائط کو پورا کر رہے ہیں جن میں انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ شامل ہیں۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ میں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان ان شرائط پر عمل درآمد کرتا رہے گا، پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی فراہمی کو بھی ہر سطح پر یقینی بنا رہے ہیں۔
نمائندہ خصوصی یورپی یونین ایمن گلمور نے امن کے قیام اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے پاکستانی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن پوری دنیا کی ضرورت ہے اور سب کو ملکر امن کے لیے کام کر نا ہوگا، جی ایس پی پلس کی وجہ سے پاکستان تجارتی طور پر مستفید ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ اصول و ضوابط ہیں جن کا جائزہ لینے کے لئے ہم پاکستان کے دورے پر آئے ہیں مجھے خوشی ہے کہ معاملات بہت بہتر ہیں۔
پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر رولا کامینارا نے کہا کہ جی ایس پلس سٹیٹس میں توسیع کے معاملے پر میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیتی ہوں اور گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور سے اس بارے میں میری بہت سے ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں، افغان امن کے لیے پاکستان کا کردار بھی مثالی ہے جسکو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سورس:وی این ایس، لاہور











