گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں سیاسی اور پارلیمانی میدان میں اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا؛وفاقی وزیرمراد سعید

14

اسلام آباد،10مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ  گزشتہ ساڑھے  تین  برسوں میں سیاسی  اور پارلیمانی  میدان  میں  اپوزیشن  کو شکست کا سامنا کرنا پڑا،وزیراعظم  نے اقوام متحدہ میں  مسئلہ کشمیر سمیت عالم  اسلام  کی نمائندگی  کی،ان اپوزیشن  اراکین  اسمبلی  کا مشکور ہوں  جنہوں  نے  غیر ملکی  ایجنڈے  کو مسترد  کرکے  عمران خان کا ساتھ  دینے  کا  فیصلہ کیا۔

جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپوزیشن کی منفی سیاست کو ہر محاذ پر شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پارلیمنٹ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق قانون سازی سمیت پارلیمنٹ میں تمام امتحانات سے کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بھی اپوزیشن جماعتوں کو شکست دی۔

 وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ حکومت کسی دوسرے کی جنگ میں قطعی شامل نہ ہونے کا کہہ کر ایک آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈروں کی تقاریر بھی مذاق بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے اعلان کردہ ریلیف پیکج کی وجہ سے اپوزیشن کو پریشانی لاحق ہے اور یہی وجہ ہے  انہوں نے عوام دوست حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اب اپوزیشن کا بیانیہ بدل گیا ہے اور کہا گیا کہ وزیراعظم نے ملک کی خودمختاری کی بات کیوں کی؟۔

مراد سعید نے کہا کہ تیل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی پر حکومت کے اقدام کو سراہنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب وہ حکومت کو آزاد اور باوقار خارجہ پالیسی پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کا غلام نہیں بلکہ دوست بن کر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے قائد شہباز شریف کو جواب دینا ہوگا کہ ان کے چپراسی مقصود کے نام پر اکاؤنٹ کیسے کھولا گیا اور ان کے اکاؤنٹ سے شریف خاندان کے اکاؤنٹس میں 1600 کروڑ روپے کیسے پہنچے۔

مراد سعید نے کہا کہ دنیا نے وہ لمحہ دیکھا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلام کا پیغام گونجا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کے درد سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ قوم پوچھ رہی ہے کہ یہ سیاستدان کیوں خاموش رہے جب ایک منظم مہم کے ذریعے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا تھا۔

 مراد سعید نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانیں قربان کیں لیکن الزام ہمارے کندھوں پر ڈال دیا گیا، تم چپ کیوں ہو؟ ۔وزیراعظم عمران خان کے علاوہ تمام سابق حکمران گستاخانہ خاکوں پر خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا سے اقتدار کی بھیک مانگنے والوں کے سر شرم سے جھکے رہے اور وہ بین الاقوامی فورمز پر اپنی قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دورہ بھارت کے دوران حریت کانفرنس کی قیادت سے ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر نے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان پر مزید ڈرون حملوں پر آمادگی ظاہر کیا۔

مراد سعید نے کہا کہ اپوزیشن کے 8 ارکان نے وزیراعظم عمران خان کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت پر اتفاق کیا ہے، تمام آٹھ ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی جرات مندانہ اور آزاد خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ان کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں شکست کے بعد اپوزیشن جماعتیں بکھر جائیں گی اور ہمیشہ کے لیے ان کا بوریا بستر گول ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ جب ان پر ہاتھ ڈالا جائے گا اوران کے ذاتی مفادات کی بات آئے گی تو یہ سارے چور اکھٹے ہوجائیں گے ،یہ نورا کشتی  پہلے آپس میں کھیلتے رہے ہیں  لیکن یہ اصل میں اقتدار ، کرپشن بچانے کے لئے ایک ہوئے ہیں۔

مراد سعید نے کہا کہ  عمران خان کوانہوں نے ایک دفعہ پھر صحیح ثابت کیا ہے اور قوم کے سامنے ان کا اپنا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرچی چیئرمین بھی مارچ کررہے ہیں، تقریریں کررہے ہیں ان کو تو سنجیدہ نہیں لینا چاہئے  ورنہ کانپیں ٹانگ  جائیں گی، پرچی چیئرمین کو کچھ  پتہ نہیں  آپ بارہا اس کو سن چکے ہیں کبھی کہتا ہے  بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے،کبھی  انڈے کلو، اور آلو درجن میں کہتا ہے ، شہباز شریف قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یورپ کو ناراض کردیا  پہلے تو ان کا  بیانیہ تھا کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے ،اب جب عمران خان نے پٹرول کی قیمتیں کم کردی ہیں تو ان کا وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کہہ رہا ہے کہ دنیا میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں  تو عمران خان قیمتیں کیوں کم کررہے ہیں در اصل انہیں اس بات کا  دکھ ہے کہ قیمتیں کیوں کم ہو رہی ہیں۔