یوکرین پر روسی حملے میں اب تک 352 شہریوں سمیت 16 بچے ہلاک ہوۓ، پاکستانی طلباء کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنا رہے ہیں؛ یوکرینی سفیر مارکیئن چچک

18

اسلام آباد،یکم مارچ (اے پی پی): اسلام آباد میں تعینات یوکرینی سفیر مارکیئن چچک نے کہا ہے کہ یوکرائن کے خلاف روسی فیڈریشن کی طرف سے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی جنگ یورپ کے دل میں جاری ہے،یوکرائن کے تقریباً تمام علاقوں میں سخت لڑائی ہو رہی ہے، میزائل اور فضائی حملوں میں اب تک 352 شہریوں سمیت 16 بچوں کو ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

ان خیالات  کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں میڈیا کو بریفنگ میں بتایا۔یوکرینی سفیر مارکیئن چچک نے بتایا کہ روسی فوجیوں نے کنڈرگارٹن اور یتیموں کو ہدف بنایا جو کہ جنگی جرم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ہسپتال اور میڈیکل امداد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرائن نے روس کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں درخواست دی ہے،روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کے لئے اپنی بہترین فوجی یونٹس کا استعمال کیا ہے، لیکن ابتک اس نے کسی بھی اہم اہداف کو حاصل نہیں کیا ہے۔

یوکرینی سفیر مارکیئن چچک نے کہا کہ  ہم تمام ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے یوکرائن کی آزادی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لئے فوجی، مالی اور دیگر مدد فراہم کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرائن پاکستان کا ایک اہم تجارتی اتحادی ہے، گزشتہ سال یوکرائن نے پاکستان میں 1.3 ملین ٹن سے زائد گندم اور اناج فراہم کیا۔ پاکستان اور یوکرائن کے وزراۓ خارجہ حالیہ روس، یوکرائن مسئلے کے حل کیلئے رابطے میں ہیں۔

سفیر نے یہ بھی بتایا کہ یوکرائن پاکستانی طلباء کے محفوظ انخلاء کو یقینی بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچاس لاکھ لوگ یوکرائن سے ہجرت کرچکے ہیں جبکہ  اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد  50 لاکھ تک بڑھ سکتی ہے.

 یوکرینی سفیر نے کہا کہ  یوکرائن میں روسی حملے نے عالمی سیاست اور گلوبل سیکورٹی کے منظر نامے میں فسطائیت شروع کردی۔

یوکرائن کے صدر والدمیر زیلنسکی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوۓ یوکرینی سفیر نے کہا ہم یورپی یونین سے درخواست کرتے ہیں کہ یوکرائن کو  خصوصی طریقہ کار کے تحت فوری طور پر یورپی یونین کی رکنیت دے، یورپ اس بات کا مشاہدہ کر رہا ہے کہ ہمارے فوجی نہ صرف اپنے ملک کے لیے، بلکہ پورے یورپ اور امن کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یورپ کے ساتھ رہنا ہے، ہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا کا ایک انتخاب دیکھیں گے۔

سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی جاری رکھیں اور عملی اقدامات کے ذریعے جنگ کو روکنے میں اپنا حصہ ڈالیں۔