قومی کمیشن برائے حقوق اطفال  نے بے گھر/سٹریٹ چلڈرن پر جامع پالیسی بریف جاری کر دی

21

اسلام آباد،21اپریل  (اے پی پی):قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی آر سی ) نے سیٹیز فار چلڈرن کے اشتراک سے پاکستان میں اسٹریٹ چلڈرن/بے گھر بچوں کے تعلیم اور تحفظ کے مسائل پر پالیسی بریف جاری کر دی۔ اسٹریٹ چلڈرن/بے گھر بچے پاکستان میں سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ آبادیوں میں سے ایک ہیں۔  یہ پالیسی بریف پاکستان میں بچوں کے حقوق پر مبنی نظریے کی روشنی میں  بے گھر بچوں کی موجودہ صورتحال ، تعلیم اور تحفظ کے شعبوں میں پالیسیوں اور قانون سازی کا جائزہ لیتی ہے، اور پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کو فعال کرنے کے لیئے تجاویز پیش  کرتی ہے۔ جمعرات کو مقامی ہوٹل میں منعقدہ  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این سی آر سی کی چیئرپرسن افشاں تحسین باجوہ نے کہا کہ  اسٹریٹ چلڈرن  پاکستان میں سب سے زیادہ کمزور اور پسماندہ آبادیوں میں سے ایک ہیں – انہیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور وہ انتہائی غربت میں رہتے ہیں جبکہ انھیں  اکثر سڑکوں پر محرومی اور خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ  کمیشن بے گھر بچوں کو ایک بہت سنگین مسئلہ تسلیم کرتا ہے، اور اس پالیسی بریف کے ساتھ ہم ان بچوں کے حقوق سے متعلق  خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں، اور تعلیم اور تحفظ کےمسائل سے نمٹنے کے لیے سفارشات فراہم کرنا  چاہتے ہیں۔

 سیٹیز فار چلڈرن کی بانی مدیحہ انصاری نے کہا کہ بےگھر بچوں / سٹریٹ چلڈرن کے موضوع پر بات چیت ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل پر روشنی ڈالنا بھی ایک اہم اور خوش آئند قدم ہے۔ ہمیں بچوں اور کمیونٹی سے سننے کی ضرورت ہے، تاکہ ان کی بہتری  کے نظام کو تشکیل دیا جا سکے۔  ہمارا ماننا ہے کہ ہر بچے کو بچپن کا حق حاصل  ہونا چاہیے ہے۔

یونیسیف کی چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ سوزن اینڈریو  نے کہا کہ یہ پالیسی  بریف حکومت، سول سوسائٹی کی تنظیموں، اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تمام شراکت داروں کے لیے ایک گائیڈ لائن   ہے۔ بچے بھی حق رکھتے  ہیں، اور انہیں تعلیم ، تحفظ اور  وقار کا حق دیا جانا چاہیے۔   پارلیمینٹیرینز کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری نے کہا کہ اسٹریٹ چلڈرن صرف اسٹیک ہولڈرز ، والدین، اساتذہ یا کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ  ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہیں ۔ پالیسی بریف کے مطابق، ‘سٹریٹ چلڈرن/بے گھر بچوں’ کا لفظ ایک وسیع معنی رکھتا ہےجس میں ان بچوں کے مختلف پس منظر، تجربات اور شناخت کو شامل کیا گیا ہے- ان بچوں کے لیئے سڑکیں ان کی شناخت کا مرکزی حوالہ ہوتی  ہیں۔ان میں پناہ گزین، نقل مکانی کرنے والے مہاجرین بچے شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ غیر ساتھی ہوتے ہیں لیکن بہت سے بے گھر بچوں کے گھر اور کمیونٹی سے مضبوط رشتے بھی ہیں۔یہ پالیسی بریف دو اہم نکات پر توجہ مرکوز کرواتی ہے – سب سے پہلے تو ان بچوں کو تحفظ کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بشمول غفلت، استحصال، جسمانی، جذباتی اور جنسی تشدد ، منشیات کا استعمال؛  دوسری طرف انہیں تعلیمی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے گھر  بچوں کو عَمُوماً  کام اور اسکول کے درمیان انتخاب، داخلے میں رکاوٹیں، اور رسائی اور معیاری تعلیم کی مشکلات درپیش آتی ہیں۔ پالیسی بریف میں  اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے  کہ اگرچہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور بے سہارا سے متعلق متعدد قوانین موجود ہیں تاہم  موجودہ قانون سازی عمر اور صوبوں کے لحاظ سے ہم آہنگ نہیں ہیں، خاص طور پرسٹریٹ چلڈرن/بے گھر بچوں کے مسائل سے نمٹنے کے لئیے  خصوصی قوانین موجود نہیں ۔ مزید یہ کہ   ان  پر ڈیٹا کی کمی ہے۔ پالیسی بریف میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بے گھر بچوں سے جڑی حقیقی تعداد غیر متعین ہے کیونکہ یہ بچے یا تو غیر دستاویزی برادریوں سے ہیں یا پھر  خانہ بدوش طرز زندگی گزار رہے ہیں۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال نے  جامع پالیسی سازی کی تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ  قانون سازی کی اصلاحات کے حوالے سے  متعلقہ وفاقی اور صوبائی قوانین  پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

پالیسی بریف میں بچوں کے تحفظ کے قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بے گھر بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے۔ نفاذ کے قواعد وضع کیے جائیں، اور بچوں کے حقوق کے قوانین میں عمر کی ہم آہنگی کی جائے۔ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے پالیسی بریف میں صوبائی لازمی تعلیمی قوانین کو نافذ کرنے، سماجی بہبود کے نیٹ ورک کی رسائی کو بڑھانے، عمر، رسمی شناختی دستاویزات، سکول میں داخلے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ  آرٹیکل  25A  کے نفاذ کی سفارش کی گئی ہے۔ پالیسی بریف میں تحفظ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے  نگہداشت اداروں کے پورے تسلسل کے لیے قابل عمل آئٹمز کی سفارش کی گئی ہے جس میں حفاظتی پروٹوکول، حفاظتی پالیسیاں اور فلاحی کارکنوں کی استعداد میں اضافہ  شامل ہیں۔ بریف میں حفظان صحت، سیکھنے اور تفریح ​​کے لیے ’ڈراپ ان سنٹر‘ کے قیام  کی سفارش کی گئی ہے جہاں بچوں کو کیس مینجمنٹ کی مناسب خدمات جیسے مشاورت، والدین کی مدد، اور سماجی تحفظ کے جال تک رسائی حاصل ہو۔