اسلام آباد۔22اپریل (اے پی پی):وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ کابینہ نے ای سی ایل رولز میں تبدیلی کی منظوری دی ہے ، نئے رولز کے تحت 3ہزار افراد ای سی ایل سے نکل جائیں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ملزمان یا جن کے نام عدالتی احکامات پر ڈالے گئےان کو ترامیم سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ای سی ایل رولز میں ترمیم خالصتاً میرٹ پر کی گئی ہے اور یہ تمام شہریوں کے لیے ہوگی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بلیک لسٹ پر نظرثانی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس میں اس وقت 30 ہزار سے زائد لوگوں کے نام ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کام بھی ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے منظور شدہ سیکیورٹی عمران خان کو فراہم کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے حکومت کو خط لکھا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پر کسی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مکمل انکوائری اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی مقدمہ درج کیا جائے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے اجلاس میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے ٹیلی گرام پر تفصیلی بات چیت ہوئی اس میں کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ماضی میں ای سی ایل کو صرف مخالفین کو سیاسی نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔











