عوامی فلاح اور مفاد میں ہر تجویز کا خیرمقدم کیا جائیگا ہے ، وفاقی وزیر داخلہ راناثناءاللہ کی اسلام آباد میں نیوز کانفرنس

48

اسلام آباد۔22اپریل  (اے پی پی):وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے   کہا  ہےکہ عوامی فلاح اور مفاد میں ہر تجویز کا خیرمقدم کیا جائیگا ہے۔ وفاقی کابینہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ رولز میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں 120 دن کے بعد کسی شخص کا نام ای سی ایل سے خارج کر دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد اس اہم مسئلے پر توجہ دی اور ای سی ایل رولز میں ترامیم کے لیے تین دن میں ایک کمیٹی قائم کی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے سردار ایاز صادق، اعظم نذیر تارڑ، سید نوید قمر اور مولانا اسعد محمود پر مشتمل کمیٹی نے مقررہ مدت میں کام مکمل کیا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کو دباؤ ڈالنے کے لیے غیر ضروری طور پر ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ انہوں نے  کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو اس وقت کی حکومت کے مخالفین پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اس وقت 4,863 افراد کے نام ای سی ایل میں ہیں اور ترامیم سے ان میں سے تقریباً 3ہزار افراد کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر کسی شخص کا نام 120 دن کے لیے ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے، اس کی مدت مزید 90 دن تک بڑھائی جا سکتی ہے تاہم اس کے لیے حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ملزمان یا جن کے نام عدالتی احکامات پر ڈالے گئےان کو ترامیم سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔