خان صاحب! جو قانون توڑتا ہے قانون اسے توڑتا ہے ؛ قمر زمان کائرہ

14

اسلام آباد، 31 مئی (اے پی پی ): وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا  ہے کہعمران خان وقت کے ساتھ بیانیہ بدلتے ہیں ،گزشتہ حکومت کی جلد بازی میں کی گئی قانونی سازی کا خاتمہ اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ تھا،الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے الیکشن کرانا ممکن نہیں، خان صاحب! جو قانون توڑتا ہے قانون اسے توڑتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے  وزیر داخلہ  رانا ثناء اللہ  اور وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود  کے ہمراہ  کابینہ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ اپنا بیانیہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل کیا اور اپنے کسی بیانیہ پر قائم نہیں رہے، پہلے کرپشن اور لوٹ مار کی باتیںکر رہے تھے، پھر پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑوں نوکریوں کی بات کی، پھر سستا تیل اور بجلی عوام کو فراہم کرنے کے دعوے کئے اور ہمیشہ قوم سے جھوٹ بولا اور اب اپنے قتل کی سازش کا بیانیہ اپنایا اور کہا کہ ایک کیسٹ ریکارڈ کروا کر کے رکھ دی ہے، ان سے کہا گیا کہ یہ کیسٹ اگر رانا ثناء اللہ کو نہیں دینی تو آئی جی پنجاب اور آئی جی خیبرپختونخوا یا سپریم کورٹ کو دیدیں، اگر وہ یہ کیسٹ نہیں دیتے تو پھر وہ اعانت جرم کا شکار ہو رہے ہیں۔

قمر زمان کائرہ نے نے کہا کہ عمران خان نے ہائی کورٹ کے حکم سے انکار کیا، حالانکہ ہائی کورٹ میں وہ خود گئے تھے، حکومت ہائی کورٹ نہیں گئی تھی، ہائی کورٹ نے کہا کہ ایچ نائن میں جہاں جے یو آئی (ف) نے جلسہ کیا اور دھرنا دیا تھا وہاں آ جائیں لیکن ان کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں، یہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ اور ہیں، پھر یہ سپریم کورٹ میں گئے اور جب سپریم کورٹ نے ایچ نائن کا کہا تو اس کے پانچ منٹ بعد ہی عمران خان نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے ڈی چوک جانے کا اعلان کر دیا، ان کی نظر میں عدالت کے فیصلے کا اتنا احترام تھا، کل عمران خان نے پھر کہا کہ ہم دوبارہ سپریم کورٹ میں جائیں گے اور سپریم کورٹ سے کہیں گے کہ ڈائریکشن دیں کہ ہمیں نہ روکا جائے، سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ دے ہم نے بہر حال اپنی تیاری کے ساتھ جانا ہے۔

  انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان سپریم کورٹ کے پاس کیا کرنے جا رہے ہیں، اگر اسلام آباد یا کسی اور جگہ امن و امان خراب ہوتا ہے تو ذمہ داری حکومت پر آتی ہے، بار بار کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) نے مارچ کیا تھا ہم نے تو نہیں روکا، 27 فروری کو بلاول بھٹو نے مارچ کا آغاز کیا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ عمران خان ہم تم پر جمہوری حملہ کریں گے، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی کے مارچ کے دوران ایک پتہ تک نہیں ٹوٹا، ہم نے انتظامیہ سے جو طے کیا تھا کہ ہم یہاں بیٹھیں گے اس سے پہلو تہی نہیں کی گئی، مارچ کے شرکاء پر امن طور پر منتشر ہو گئے اور پھر جمہوری حق استعمال کیا، اگر مسلح جتھے ریڈ زون میں آ جاتے تو میڈیا اور عدلیہ ہم سے سوال کر رہی ہوتی کہ کیسی حکومت ہے، حکومت نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔

 وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے  کہا ہے کہ عمران خان اب کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت انتخابی قوانین، نیب قوانین اور اوورسیز پاکستانیز کے ووٹ کے حق کو ختم کر رہی ہے، ہم بار بار وضاحت کرتے رہے ہیں اور اب پھر وضاحت کرتے ہیں کہ نیب قوانین میں کسی رعایت کے لئے کوئی ترامیم نہیں کی گئی، جو ترامیم کی گئی ہیں وہ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق کی گئی ہیں، ان چیزوں میں ترامیم کی گئی ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو پکڑ کر ایک لمبے عرصے کے لئے جیلوں میں ڈال دیا جاتا تھا، 90 دن کا ریمارنڈ، تین تین سال نیب جیلوں میں لوگوںکو رکھنا، اس طرح کی ترامیم کی گئی ہیں، عمران خان کے اپنے دور میں بھی باتیں کی گئیں کہ ان قوانین کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جس دن پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی قوانین اور نیب کے قوانین منظور کئے جا رہے تھے ہم نے اسی دن کہہ دیا تھا کہ جس دن ہمیں موقع ملا ہم ان قوانین کو ختم کر دیں گے، یہ انصاف کے قواعد کے منافی ہیں، ہم اچانک یہ بات نہیں کہہ رہے، ہم نے اسی دن کہہ دیا تھا کہ آپ غیر آئینی کام کر رہے ہو، پارلیمان کو بلڈوزکر رہے ہو، ہم اس کو نہیں مانتے، ہم نے الیکشن کمیشن کے ہاتھ کھول دیئے ہیں جو سابق حکومت نے باندھ دیئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز کا ووٹ کا حق اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن امریکہ میں اگر انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے دھاندلی ہو سکتی ہے تو کیا پاکستان میں نہیں ہو سکتی؟ ہم نے کہا تھا کہ صرف ووٹ کا حق دینے کا ڈھونگ مت رچائو یہ تو پہلے سے موجود ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیز کو اسمبلیوں میں نمائندگی ملے، ان کے نمائندے اسمبلیوں میں آکر بیٹھیں، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھ کر اپنے مسائل کو حل کر سکیں، اگر عمران خان کا جلد انتخابات کرانے کا مطالبہ مان لیا جاتا ہے تو کیا انتظامات ممکن ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کی تیاری مکمل ہے؟ الیکشن کمیشن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کیونکہ ای وی ایم کا قانون بنا دیا گیا تھا، الیکشن کمیشن کی ای وی ایم کے حوالے سے تیاری نہیں اور اس حوالے سے ساری جماعتوں کے اپنے اپنے تحفظات موجود ہیں، تکنیکی طور پر اور عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے، اوورسیز پاکستانی ہمارے بھائی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جو قانون توڑتا ہے اس کو قانون توڑتا ہے، ساڑھے تین سال عمران خان حکومت نے اپوزیشن کو صرف گالیاں دیں اور وزیراعظم شہباز شریف نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کرنے کو تیار ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ پہلے الیکشن کا اعلان کیا جائے تو پھر بیٹھ کر مذاکرات کئے جائیں ایسے نہیں ہو سکتا، اگر آپ واقعی پاکستان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں تو چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے اور چارٹر آف ڈیموکریسی کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اگر آپ واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو وزیراعظم کی آفر موجود ہے۔