سکھر؛ سندھ کا مسئلہ یہ ہے کہ یاتو پینے کا پانی نہیں ہوتا یا پھر سیلاب سے ڈوب جاتا ہے، سینیٹر تاج حیدر

16

سکھر،10مئی(اے پی پی): پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما سینیٹر تاج حیدر نے بیراج کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے پی ڈی کا رقبہ بڑھا دیا ہے جو کہ سندھ اور ملکی مفاد کے لئے بہتر نہیں ہے، سندھ کا مسئلہ یہ ہے کہ یاتو پینے کا پانی نہیں ہوتا یا پھر سیلاب سے ڈوب جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ چینی ٹیم یہاں آئی اس نے دیکھ کر بڑا تعجب کا اظہا ر کیا کہ آپ رزعی ملک ہو آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کون سے علاقے میں کون سی فصل کتنی مقدار میں کرنی چاہیے، ہماری زراعت کے لئے ایک مؤثر پلاننگ کی ضرورت ہے اور پانی کی فراہمی بنیادی چیز ہے۔

 انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ میں پانی کی شدید کمی ہے، پانی کی کمی سے سندھ کے زیریں علاقوں میں صورتحال بہت خراب ہے، بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کپاس کے لئے پانی نہیں ہے، پاکستان میں کپاس کی بہت بڑی مقدار میں درآمد بڑھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ تربیلہ اور منگلہ سے پانی کی ڈسٹریبیوشن کا نظام نہیں ہے، نئے ڈیم بن رہے ہیں اصل میں پانی کی ڈسٹری بیوشن کا نظام بنایا جائے، بدین، ٹھٹھہ سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی بہت کمی ہے، ہمیں پانی سے سستی بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ سولر کی طرف جانا چاہیے، سولر سے سستی بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، ہمیں سستی بجلی کے لیے جدید طریقے استعمال کرنے چاہیے اور کہا کہ سینیٹ میں سات برسوں سے سولر پر بجلی چل رہی ہے۔

اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی سکھر سٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ارشد مغل، ہاری کمیٹی کے صدر خادم ملک و دیگر پی پی راہنما بھی تھے۔