اسلام آباد،24مئی (اے پی پی): وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کے نام پر ملک میں فتنہ فساد مارچ کیا جا رہا ہے ، کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ فساد مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی ، عمران خان قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ نے منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن جمہوری احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن پی ٹی آئی پرامن احتجاج کیلئے نہیں آ رہی، لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جا رہا ہے، کسی کو وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ کرنے اور حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اتحادی حکومت کے منتخب وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کیلئے غیر ملکی سازش کا راگ الاپا گیا، جب وہ فلاپ ہو گیا تو ”مجھے قتل کر دیا جائے گا” کا فراڈ بیانیہ سامنے لایا گیا، اب 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر ایک فتنہ فساد مارچ کیا جا رہا ہے، یہ جمہوری مارچ نہیں ہے، یہ فتنہ فساد ہے جس کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا اور افراتفری اور انتشار پھیلانا ہے، اسی بیانیہ کو لے کر ایک ماہ سے یہ ٹولہ ملک میں گھومتا پھر رہا ہے اور یہ گفتگو کی جا رہی ہے کہ یہ خونی مارچ ہو گا، ہم آئیں گے اور انارکی پھیلائیں گے، یہ بھی کہا گیا کہ حکومت کو زبردستی اٹھا کر پھینک دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل 2014ء میں بھی کہا گیا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کیلئے آ رہے ہیں اور وعدہ کیا گیا کہ ایک خاص مقام سے آگے نہیں بڑھیں گے لیکن یہ ریڈ زون میں بھی گھسے اور وزیراعظم ہائوس تک بھی پہنچے، عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا گیا اور پارلیمان کی عمارت پر گندے کپڑے لٹکائے گئے اور حکومت کے ساتھ پرامن احتجاج کا جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی، ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ فتنہ فساد پھیلانے کیلئے لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اسے روکا جائے گا تاکہ یہ گمراہی اور قوم کو تقسیم کرنے کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اب گالیوں سے گولیوں پر آ گئے ہیں اور لاہور میں ایک کانسٹیبل کو شہید کر دیا گیا، ان کی قیادت جو بڑی بہادر بنی پھرتی ہے اور لمبی لمبی باتیں کرتی ہے اب پشاور جا کر اکٹھی ہو گئی ہے اور ہمارے پاس یہ اطلاع ہے کہ یہ ایک وفاقی اکائی یعنی خیبرپختونخوا کے تمام تر وسائل اور صوبائی فورسز کو ساتھ لے کر وفاق پر حملہ آور ہونے آ رہے ہیں، یہ ایک بڑے جتھے کی صورت میں آئیں گے، ایسا جتھہ جس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں، سرکاری وسائل کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقہ سے استعمال کرکے وفاق پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ میں ان لوگوں کو جو اس عمرانی فتنے اور گمراہی کا شکار ہیں، کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ اس گمراہی سے نکلیں، یہ قومی اور ملکی بقاء کا مسئلہ ہے، ایک بدبخت شخص قوم کو گمراہ اور تقسیم کرنا چاہتا ہے، اس نے مائوں کو بھی کہا ہے کہ اپنے چھوٹے بچوں کو نکالیں اور مخالف جماعتوں کے لوگوں کو چور اور غدار کہیں، یہ صرف اتحادی اور سیاسی جماعتوں اور کسی ایک طبقے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ بن چکا ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو بھی اس ٹولے کو یہیں پر روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن یہ پرامن احتجاج کیلئے نہیں آ رہے، پہلے بھی پرامن احتجاج کے نام پر آئے تھے، اگر عمران خان اس احتجاج کو خونی مارچ کا نام نہ دیتا تو ہم حائل نہ ہوتے، حیرانی ہوئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج انہوں نے سماعت کے دوران اپنی مقررہ جگہ تک محدود اور پرامن رہنے کی یقین دہانی بھی نہیں کرائی اس سے ان کے ارادے واضح ہیں، کسی کو وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ کرنے اور حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسلام آباد کے شہریوں اور تاجروں سمیت سب کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے ہر قیمت پر پورا کریں گے۔
وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ حکومت لاہور میں شہید ہونے والے کانسٹیبل کے اہلخانہ کی فلاح بہبود کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریاں بھی پوری کرے گی۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آج وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا انتہائی اہمیت کا حامل تھا، وزیر داخلہ رانا ثناء اﷲ کی گفتگو کی تائید کرتا ہوں، 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کا مقصد پاکستان کی سیاست اور معیشت کو تباہ کرنا تھا، پھر ان کے پونے چار سالہ دور حکومت میں آئین میں اصلاحات کے نام پر متنازعہ قانون سازی ہوئی، ملک معاشی و اخلاقی پستی کی طرف گیا، ان کے اپنے اتحادیوں نے ملک کی معاشی، سیاسی صورتحال کے پیش نظر ان پر عدم اعتماد کیا اور ایک غیر آئینی طریقے سے بنی حکومت کو ایک آئینی طریقے سے رخصت کیا، اب جب تمام سیاسی جماعتیں جن کے نظریات اور فکر ایک دوسرے سے مختلف ہے وہ صرف اس بنیاد پر اکٹھے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں معاشی، سیاسی بحران پیدا ہوا ہے اور جس طرح عمران خان نے عوام کو منتشر اور گمراہ کیا اور انتشار اور فساد پھیلایا، اس کے پیش نظر ہم نے ضرورت محسوس کی کہ ہم اگر مل کر اس بحران کا مقابلہ نہیں کریں گے تو پاکستان کے عوام کو درپیش مشکلات کا مداوا نہیں کر سکیں گے تو شاید ہم بھی مجرم ثابت ہوں، آج وزیر خارجہ اور پاکستان کی حکومت بین الاقوامی دنیا کو متوجہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان دنیا کو یہ پیغام دینے کیلئے اسلام آباد آ رہا ہے کہ پاکستان میں بے یقینی کی صورتحال ہے، سپریم کورٹ، پارلیمان اور پی ٹی وی سنٹر پر بھی پاکستان تحریک انصاف نے دھاوا بول دیا تھا، ہمارا واضح پیغام ہے کہ پرامن احتجاج کی اجازت ہو گی لیکن انتشار اور خونریزی کی کبھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور سپیکر کا رویہ بھی سب کے سامنے ہے، ہمیں اس قوم کی معاشی صورتحال کے حوالے سے جو مشکلات درپیش ہیں اس حوالے سے اگر کوئی ہماری کوئی مدد کر سکتا ہے تو ہم ان کا خیرمقدم کریں گے، ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کی راہ میں اگر کوئی خلل ڈالے گا تو ہمیں جو فیصلے کرنا پڑیں گے وہ کریں گے۔











