ٹوبہ ٹیک سنگھ، 26 مئی(اے پی پی): پاکستان آم کے زیرکاشت رقبے کے لحاظ سے دنیا میں 7 ویں نمبر پر ہے جہاں اس کی کاشت ایک لاکھ 72 ہزار 308 ایکٹررقبہ پر ہے۔صوبہ پنجاب میں آم کا زیرکاشت رقبہ ایک لاکھ 11ہزار 432 ایکٹرہے۔پاکستان میں آم کی سالانہ پیداوار 20لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں سے صرف صوبہ پنجاب میں قریباً13لاکھ میٹرک ٹن سے زائد پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق امسال موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشیں نہ ہونے کے باعث ہوا میں نمی کا دباؤ انتہائی کم جارہا ہے جس کے باعث آم کا پھل متاثر ہو رہا ہے۔آم کی اچھی فلاورنگ کے لئے مارچ میں درجہ حرارت پہلے پندرہ دنوں میں 13 تا30 ڈگری سینٹی گریڈ ہونا ضروری ہوتا ہے مگر امسال اُن دنوں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگیا۔ایک اندازے کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت بڑھنے کے باعث آم کی پیداوار میں کمی کا امکان ہے۔اسلئے آم کے باغبان باغات میں نمی زیادہ کرنے کیلئے روٹاویٹر/ ہل وغیرہ بالکل نہ چلائیں اور وقفہ آبپاشی کم یعنی 10 یا12 دن رکھیں۔











