پشاور، 31 مئی(اے پی پی): قائمقام گورنرخیبر پختونخوا مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ تحقیق کے شعبہ کو کمرشلائزڈ کرنا چاہئے تاکہ یونیورسٹیوں کے ریونیو میں اضافہ ہو، ساتھ ہی یونیورسٹیز کو عالمی معیار کے مطابق تحقیق پر توجہ دینی چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار قائمقام گورنرخیبر پختونخوا مشتاق احمد غنی نے یونیورسٹی آف مالاکنڈ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ سینٹ کے الگ الگ اجلاس میں یونیورسٹی آف مالاکنڈ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی پشاور کے آئندہ مالی سال 2022-23 کے سالانہ بجٹ کی منظوری دینے کیساتھ ساتھ مالاکنڈ یونیورسٹی کے ملازمین کو ملنے والے مختلف الاؤنسز سے متعلق کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سینٹ اجلاس میں یو ای ٹی پشاور کو درپیش مالی خسارے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جبکہ سینٹ نے یو ای ٹی پشاور کو مالی خسارے پر قابو پانے کیلئے کفایت شعاری پالیسی اختیار کرنے اور غیر ضروری اخراجات کم کرنیکی ہدایت کی۔ گورنر نے کمیٹی کو مختلف الاؤنسز سے متعلق اپنی ٹھوس تجاویز آئندہ سینٹ اجلاس میں پیش کرنے کی تاکید کی۔
سینیٹ اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے قائمقام گورنر مشتاق احمد غنی نے کہا کہ یو ای ٹی پشاور اپنے وسائل پیدا کرے اور اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے مالی خسارہ کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے مگر بدقسمتی سے یونیورسٹیاں صرف ملازمتیں فراہم کرنیوالے ادارے بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں غیرضروری اخراجات اور حد سے زیادہ بھرتیاں مالی مسائل کی بڑی وجہ ہیں۔
سینٹ اجلاسوں میں صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم(پرو چانسلر) کامران بنگش، ارکان صوبائی اسمبلی انجنئیر محمد فہیم اور ہمایون خان، مذکورہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پروفیسر ڈاکٹر افتخارحسین، پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد، ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام سمیت محکمہ ہائرایجوکیشن،محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔











