ملتان،28جون (اے پی پی): حالیہ بارشوں کے بعد کپا س کے کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی، سبز تیلا اور گلابی سنڈی سے بچاﺅ کے ساتھ ساتھ کپاس کی فصل کی غذائی ضروریات پر خصوصی توجہ دی جائے۔ یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے بی سی آئی پروجیکٹ کے تعاون سے سی سی آر آئی ملتان کے زیر اہتمام موضع شادن لنڈ، ڈی جی خان تربیتی پروگرام برائے بہتر کپاس کے کاشتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس پروگرام میں 300 سے زائد کپاس کے کاشتکاروں نے شرکت کی۔
ڈاکٹر زاہد محمودکاکہنا تھا کہ اس تربیتی پروگرام کا مقصد کپا س کے کاشتکاروں کے لئے کپاس کوکم خرچ اور آسان کاشت بنانے کے علاوہ ماحول دوست بنانا بھی ہے، کپاس کی فصل کی اچھی مینجمنٹ سے ہم فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں اور انہوں نے کپاس کے کیڑے مکوڑوں خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی سے بچاﺅ کی حکمت عملی پر کافی زور دیا۔
صوبائی کو آرڈینیٹرپنجاب بی سی آئی پروجیکٹ ڈاکٹر فیاض احمدنے کپاس کے تربیتی کاشتکاروں کوکپاس کے لئے متوازن کھاد اور پانی کی مناسب ضروریات بارے اورڈاکٹر محمد نوید افضل ،انچارج شعبہ ایگرانومی نے حالیہ بارشوں کے بعد اگنے والی جڑی بوٹیوں کے نقصانات اور ان کی تلفی، فصل کی چھدرائی اور بیج کے لئے لگائی گئی کپاس کی سفارشات بارے تفصیل سے بتایا۔
اختتامی کلمات میں ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا کہ ہمارا مقصد کپاس کے کاشتکاروں کو ایسی اقسام مہیا کرنا ہیں جن کی پیداواری صلاحیت بہتر،ریشہ لمبا اور کن زیادہ ہو اور اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھ کر کپاس کی ایسی اقسام تیار کرنا ہیں جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت میں اچھی پیداوار دے سکیں۔
اس موقع پر کپاس کے کاشتکاروں میں سربراہ شعبہ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی ساجد محمود کی جانب سے کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی سے متعلق مفت تحقیقی کتابچے بھی تقسیم کئے گئے۔ کپاس کے کیڑے مکوڑوں سے بچاؤکے لئے جنید احمد ڈاہا ،سائنٹفک آفیسر نے کسانوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے ۔
بی سی آئی پروجیکٹ کی فیلڈ آفیسرز صباخان اور ڈاکٹر شعیب نے بھی تربیتی پروگرام کے شرکاءسے خطاب کیا۔











