ملائیشیااپنی ضروریات کی درآمدی اشیا براہ راست پاکستان اور فیصل آباد سے خریدنے کو ترجیح دے گا، داتو حاجی احمد نزلین ادریس

17

فیصل آباد۔21جون  (اے پی پی):کوونا کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں تعطل سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کیلئے ملائیشیا فوری اقدامات اٹھا رہا ہے جبکہ اس سلسلہ میں ابتدائی طور پر ملائیشیا اپنی ضروریات کی درآمدی اشیا براہ راست پاکستان اور فیصل آباد سے خریدنے کو ترجیح دے گا۔   یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کرنے والے ملائشین وفد کے قائد داتو حاجی احمد نزلین ادریس نے بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاہور میں پاکستان ایگری ایکسپو 2022ء میں شرکت کے بعد فیصل آباد آئے ہیں تاکہ دو طرفہ تجارت کے علاوہ اشیاء کی فراہمی کیلئے دونوں ملکو ں کے کاروباری افراد میں براہ راست رابطوں کو بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد آنے والے وفد میں فوڈ، انڈسٹری اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندگان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیصل آباد سے تازہ سبزیاں، آلو، لہسن، پھل اور منجمد گوشت خریدنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں ملائیشیا ہوم، ہوٹل، ہسپتال کیلئے خام مال کے علاوہ متعلقہ مصنوعات اور گارمنٹ بھی خریدنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے انٹر پرینوئرز فیصل آباد میں موجودہ نئے صنعتی، تجارتی اور کاروباری مواقعوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کرونا کاذکر کرتے ہوئے حاجی احمد نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پوری دنیا میں ”سپلائی چین“ متاثر ہوئی۔ تاہم اب حالات تیزی سے معمول پر آرہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلہ کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کا وفد فیصل آباد کے کاروباری افراد سے نہ صرف نتیجہ خیز گفتگو کرے گا بلکہ اس سے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے فیصل آباد چیمبر کی طرف سے بھر پور تعاون پر صدر عاطف منیر شیخ کا خصوصی طور پر شکریہ بھی ادا کیا۔ اس سے قبل ملائیشیا کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر عاطف منیر شیخ نے فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد اپنے محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کے عین وسط میں واقع ہے جبکہ یہ شہر ریل، روڈ اور فضائی سروس کے ذریعے پوری دنیا سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جدید صنعتی علاقے قائم کئے جا رہے ہیں۔ ایم تھری اور علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کو سپیشل اکنامک زونز کا بھی درجہ دے دیا گیا ہے جہاں نئی صنعتوں کو دس سال کیلئے ٹیکس ہالی ڈے کی سہولت دستیاب ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہاں غیر ملکی سرمایہ کاری سے 65صنعتی ادارے قائم ہیں جو برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فیصل آباد کے جدید اور سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے صدر عاطف منیر شیخ نے بتایا کہ یہ شہر ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں 45فیصد جبکہ قومی برآمدات میں 22فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے۔ مزید برآں فیصل آباد ملک کی کپڑے کی مجموعی ضروریات کا 80فیصد پورا کر رہا ہے۔ فیصل آباد چیمبر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اِس کے 8ہزار ممبر 72مختلف سیکٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگرچہ ٹیکسٹائل سب سے بڑا سیکٹر ہے مگر یہاں دوسرے شعبے بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ملائیشیا کے ساتھ تجارت کے بارے میں صدر چیمبر نے کہا کہ اس وقت دو طرفہ تجارت کا حجم بہت کم ہے جسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کے 28ممبر پہلے ہی ملائیشیا سے تجارت کر رہے ہیں جبکہ اس وفد کے دورہ سے اُن کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ موجود ہے مگر ہم اس سے بھر پور طریقے سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ایگزیکٹو ممبر محمد اظہر چوہدری نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارتی مواقعوں کے بارے میں پرپذنٹیشن دی اور بتایا کہ فیصل آباد چیمبر اس شہر کی معیاری مصنوعات کو وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کیلئے ”میڈ اِن فیصل آباد“ کے عنوان سے نمائش لگا رہا ہے۔ یہ نمائش ملائیشیا میں بھی لگائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس سال ہونے والی پاکستان اکنامک کانفرنس کا خاص طور پر ذکر کیا اور صدر کی اجازت سے اعلان کیا کہ آئندہ سال یہ کانفرنس 3مارچ2023ء  کو ہو گی۔ اس میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کے سلسلہ میں بی ٹو بی میٹنگز ہوں گی جبکہ اس میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی وفود بھی شرکت کریں گے۔