ملکی سطح پر فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنائے بغیر مطلوبہ اہداف کا حصول ناممکن ہے؛ وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں

20

فیصل آباد، 15 جون (اے پی پی ): زرعی یونیورسٹی فیصل آبادکے وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا ہے کہ پچھلے سال پاکستان نے دس ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ غذائی اجناس کی درآمد پر خرچ کیا ہے جو کہ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے سائنسدانوں سمیت تمام متعلقہ فریقین کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ملکی سطح پر فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو اپنائے بغیر مطلوبہ اہداف کا حصول ناممکن ہے۔

 ان خیالات   کا اظہار انہوں نے سینٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز کے زیر اہتمام تین روزہ بین الااقوامی سمپوزیم برائے زراعت میں تجزیہ کاری کا نیٹ ورک برائے حصول غذائی استحکام کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطا ب کے دوران کیا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں غذائی استحکام معاشی و سیاسی استحکام سے زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے  چار بڑے قحط میں سے دو کا تعلق آلو اور مکئی کی بیماریوں کے باعث وقوع پذیر ہوئے جن میں سے ایک آئیرلینڈ میں آلو کی وجہ سے جبکہ دوسرا میکسیکو میں مکئی کی وجہ سے تاریخ کا حصہ رہے گا۔

 ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ پاکستان میں گندم کلیدی غذائی جنس کا درجہ رکھتی ہے لہذا گزشتہ سال ہمیں اربوں روپے کی گندم درآمد کرنا پڑی اور اس سال موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایک بار پھر ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے شاید ہمیں غلہ درآمد کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ تجزیاتی نیٹ ورک غذائی استحکام کے چیلنجز کے حوالے سے انتہائی اہمیت کاحامل ہے جس میں ہر طرح کی تجزیہ کاری اور منصوبہ بندی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

 یونیورسٹی آف فلوریڈا کی پروفیسر ڈاکٹر کیرن اے گیرٹ نے کہا کہ تجزیہ کاری کے نیٹ ورک کے ذریعے ہم زراعت کو آنے والے مسائل کی جانچ کاری حاصل کرتے ہوئے ان کا حل تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماریوں پر قابوپانے والی جدید ٹیکنیک کو اپنانے کے ساتھ ساتھ زراعت کو بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی ورائیٹیز کو متعارف کروانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دورہ حاضر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیداواریت میں کمی کے ساتھ ساتھ بیماری میں بھی اضافہ ہورہا ہے جس کیلئے سائنسدانوں کو مربوط کاوشیں عمل میں لانی ہونگی۔

 او آئی سی کے اسلامک آرگنائزیشن برائے فوڈ سیکورٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسماعیل عبدالحمید نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے جو کہ آنے والے سالوں میں شدت اختیار کر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں زرعی سائنسدانوں پر زراعت کی پیداوار کو برقرار رکھنے اور اس میں اضافے کیلئے تحقیقات عمل میں لانا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کا شمار زراعت کے میدا ن میں عالمی سطح کی صف اول کی جامعات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ او آئی سی ممالک کی بہترین زرعی اداروں کے ساتھ جامعہ زرعیہ کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا بھرپور کردار کریں گے۔

 ڈائریکٹر سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ڈاکٹر سلطان حبیب اللہ نے کہا کہ حال ہی میں ایران کی گندم کی پیداوار افریقہ سے آنے والی بیماری کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پودوں کی بیماریاں ایک جگہ سے دوسری جگہ فضا میں سفر کرتی ہیں جس سے بچنے کیلئے جدید زرعی ٹیکنیکس کو بشمول نیٹ ورک تجزیے کو فروغ دینا ہوگا۔

پرنسپل آفیسر پبلک ریلیشنز اینڈ پبلیکیشنز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر محمد جلال عارف نے کہا کہ اگر گندم کے آٹے میں مکئی کے آٹے کو استعمال کیا جائے تو اس سے غذائیت کی کمی جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اجناس کی بیماریوں کے خلاف مربوط طریقہ انسداد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم ماحول کو آلودہ کیے بغیر فصلوں کو نقصان پہنچانے والے حشرات کا تدارک کرنے کے ساتھ ساتھ صحت کیلئے بہترین غذائی اجناس تیار کر سکتے ہیں۔

 اس موقع پر ایوب ریسرچ کے ڈائریکٹر نواز میکن نے بھی خطاب کیا۔