اسلام آباد، 6 جون (اے پی پی): وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان میں جاپانی کمپنیوں کو درپیش تمام مسائل حل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کمیٹی قائم کر دی گئی ہے،کمیٹی جاپانی کمپینوں کو درپیش تمام مسائل ایک ہفتے کے اندر حل کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وزیر اعظم شہباز شریف سے جاپانی کپمنیوں کے وفد نے پیر کو یہاں پاکستان میں جاپان کے سفیر میتسوہیرو واڈا کی قیادت میں ملاقات کی۔ دوران ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز کو ٹیکس فری کئے جانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جاپانی وفد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ کیلئے پاکستان کا جلد دورہ کریں جبکہ پاکستان میں جاپانی کمپنیاں اپنی سرمایہ کاری سے اپکسپورٹ انڈسٹری کے قیام پر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ تھر میں کوئلے، چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر، قابلِ تجدید توانائی، انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری و تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور جاپان 2022 میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہی۔انہوں نے کہا کہ جاپان کی ترقی پوری دنیا کیلئے مثال ہے، پاکستان-جاپان تعاون کو فروغ دے کر پاکستان، جاپان کے تجربے سے مستفید ہو سکتا ہے۔
جاپابی کمپنیوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ویژن کے تحت موجودہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ، فوڈ پراسیسنگ، اسپیشل اکنامک زونز، ٹیکسٹائل سیکٹر، ٹیلی کمیونکیشن سیکٹر، اور آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
ملاقات میں چاپانی کمرشل اتاشی اور تمام بڑے صنعتی و تجارتی شعبوں میں کام کرنے والی جاپانی کمپنیوں کے نمائندے شریک تھے جبکہ وفاقی وزراء خرم دستگیر، مفتاح اسماعیل، مخدوم مرتضی محمود اور متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات وزیرِ اعظم کی تمام مقامی و بین الاقوامی کاروباری و تجارتی اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ کے سلسلے میں ملاقاتوں کی ایک کڑی ہے۔











