پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛ قومی احتساب (ترمیمی) بل 2022ء اور انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء منظور کر لیا گیا

13

 

اسلام آباد،9جون  (اے پی پی):پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی احتساب (ترمیمی) بل 2022ء  اور انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء منظور کر لیے   گئے  ہیں ،  جو  صدر مملکت کی جانب سے واپس بھجوایا گئے تھے  جبکہ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ   قومی بلوں پر   اٹھائے گئے اعتراضات قانونی و آئینی نہیں ہیں، صدر مملکت نے 85 فیصد ترامیم سے اتفاق کیا ہے۔

 جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر قانون نے صدر مملکت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے جواب میں کہا کہ قومی احتساب (ترمیمی) بل 2022ء صدر کی جانب سے واپس غور کے لئے بھجوائے جانے کے ساتھ جو تجاویز دی گئی ہیں، لگتا ہے کہ انہوں نے بل پڑھا ہی نہیں، اس ایوان نے بل پر غور کر کے ان میں ترامیم کی گئیں، چار گھنٹے اس پر بحث کی گئی۔ 85 فیصد ترامیم سے صدر اتفاق کرتے ہیں،  قرآن و شریعت میں الزام لگانے والا ثبوت فراہم کرنے کا پابند ہے، اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی اس پر رائے لی گئی ہے، جس میں اس قانون میں سقم ظاہر کئے گئے، ہم نے کوشش کی کہ اس کے غلط استعمال سے کسی کی وفاداریاں بدلنے، ذاتی مفاد کے لئے اس کے غلط استعمال سے روکا جائے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء  بھی  منظور کر لیا گیا ہے ۔ مشترکہ اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا ہے کہ صدر مملکت کی جانب سے اس بل پر اعتراضات بلاجواز ہیں۔ انہوں  نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی جانب سے منظور کیا گیا اور صدر کی جانب سے واپس بھیجا گیا انتخابی قانون 2017ء میں مزید ترمیم کرنے کا بل انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء دستور کے آرٹیکل 57 کی شق 2 کے تحت فی الفور زیر غور لایا جائے۔

 وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے صدر مملکت کی جانب سے بل واپس بھجوائے جانے کے ساتھ دی گئی تجاویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے انتخابات (ترمیمی) بل 2022ء پر اعتراضات کے ساتھ واپس کیا، اس پر ہدایت کی کہ اس پر ازسر نو غور کیا جائے۔ قائمہ کمیٹیوں میں زیر بحث لایا جائے، یہ احکامات آرٹیکل 65 کی شق 2 کی خلاف ورزی ہے، وہ صرف نظرثانی کا کہہ سکتے ہیں، ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ صدر مملکت آئین سے بالاتر ہیں، صدر کو آئینی عہدے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہیے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لئے عدالت کے حکم پر کیا گیا، اس کے طریقہ کار سے الیکشن کمیشن مطمئن ہو، 2018ء کے بعد ان کی جماعت کی حکومت تھی، ان کے اقدامات کے بارے میں بتایا جائے کہ وہ اقدامات مخلصانہ ہیں، صدر مملکت نے الیکٹرانک ووٹنگ کے حوالے سے اجلاسوں کی صدارت کی، باہر سے ایک کمپنی ہائر کی گئی جس نے نادرا کے سسٹم کا جائزہ لے کر اسے اس کام کیلئے ناکارہ قرار دیا، نادرا نے دسمبر 2021ء کا وقت دیا تاہم حکومت نے اس پر کوئی معاہدہ نہیں کیا، حکومت نے الیکشن کمیشن کو پیسے نہیں دیئے، نادرا نے کام بھی شروع نہیں کیا، بیرون ملک پاکستانیوں کی رجسٹریشن نہیں ہو سکی۔