اسلام آباد،05جون(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہمیں کلائمیٹ کرائیسس سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ کلچر کو اپنانا ہوگا،ہر پاکستانی شہری کو ماحولیات کا تحفظ اور اپنی دھرتی ماں کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ماحولیات کے عالمی دن پراپنے پیغام میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آج کا دن منانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عوام میں شعور اور آگاہی پھیلنا ہے، نہ صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا ماحولیتی تبدیلی کے غیر معمولی اثرات سے متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدلی 21ویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ہم بطور پاکستانی عالمی موسمیاتی ایمرجنسی کے صف اول میں کھڑے ہیں، پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن کو ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات اور خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں غیر معمولی درجہ حرارت اور شدید خشک سالی کا سامنا ہے،ہمارے جنگلات جل رہے، گلیشیئر پگل رہے اور دریا خشک ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے پانی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی، اگر ہم نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم نہیں کیا تو یہ ملک اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی زمین اور قدرتی ماحولیات کے ساتھ بہت ناانصافی کرتے ہیں، ہمیں سمندر، ہوا اور اپنی زمین کو آلودہ نہیں کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ صاف ستھرا اور صحت مند ماحول تب ہی ممکن ہے جب ہر شہری اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کرہ ارض پر ایک ہی پاکستان ہے، جس کے ماحولیات کی حفاظت کر کے ہی ہم اس کو بچا سکتے ہیں۔











