کوئٹہ،1جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین کو سماجی تحفظ دینے کے ساتھ انھیں معاشی طور پر مضبوط کرینگے تاکہ وہ پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں، اگلے مہینے سے بلوچستان کے ہر ضلع میں بےنظیر انکم سپورٹ کے نشوونما پروگرام کے سنٹرز کھول دیئے جائینگے۔ بی آئی ایس پی کے بے نظیر تعلیم پروگرام سے ڈھائی کروڑ بچے استفادہ کررہے ہیں، وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ کے منصوبوں میں بلوچستان کو ترجیح اول میں رکھا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں پاکستان پاورٹی ایلویشن فنڈ کے اشتراک سے بلوچستان کے مختلف علاقوں کی خواتین میں بلاسود قرضہ جات کے چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ وفاق میں بلوچستان کے مسائل کے لئے مجھ سے جو ہو گا میں کروں گی،بلوچستان کے حقوق پر بلوچستان کے لوگوں کا حق ہونا چائیے۔ ہم بلوچستان کے زخموں کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جس طریقے سے عوام کے ساتھ کمیونٹی لیول پر جوکام ہو رہا ہے وہ قابل تعریف ہے ، پاکستان کومضبوط کرنے کرنے کے لیے بلوچستان کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب تک بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہونگے تب تک ان کے عوام کی محرومیاں ختم نہیں ہوگی، بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس لیے بڑا صوبہ ہونے کے ساتھ بلوچستان کو مزید مضبوط کرنا ہو گا ،بینظر انکم سپورٹ پروگرام سماجی تحفظ کے لئے مضبوط پروگرام ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ترقی کے لئے خواتین کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بچیوں کے لئے تعلیم ضروری ہے ،بینظیر تعلیم پروگرام میں ڈھائی لاکھ بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا کہ بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے،میں بلوچستان میں صرف اعلانات کرنے نہیں بلکہ کام کرنے آئی ہوں۔انہوں نے اعلان کیا کہ دو مہینے کے اند بلوچستان کے ہر ضلع میں بینظیر نشونماپروگرام کا آغاز کیا جائے گا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 25 موبائل گاڑیاں دی جائیگی۔
وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ بلوچستان آنے کی ہمیشہ خواہش رہی ہے ،سابق صدر آصف علی زرداری نے بلوچستان کے عوام سے ہونے والے زیادتیوں پر معافی مانگی ۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والی خواتین کو وزارت تخفیف غربت وسماجی تحفظ کے چھتری تلے پی پی اے ایف اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ منسلک کرکے انہیں اپنے پیروں پر کھڑی کرکے ان میں خود اعتماد ی کا جذبہ پیدا کرینگے ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے نشوونما پروگرام کے تحت حاملہ خواتین اور بچوں کا ڈاکٹرز ہر تین مہینے بعد چیک اپ کرے گا اور انہیں غذاء کی فراہمی کے ساتھ مختلف ویکسین بھی لگائی جائے گی۔انہو ں نے کہا کہ 2008میں بے نظیر بھٹو شہید کی ویژن کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا جبکہ 2010میں قانون سازی کے ذریعے اسے مظبوط بنایا گیا جو تاحال جاری ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کا مقصد خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بناناہے چونکہ وفاق اکائیوں کے علاوہ مضبوط نہیں ہوسکتا ہے اس لیے بلوچستان کو مضبوط بنا کرہی پاکستان کو خوشحال ومستحکم بنایاجاسکتا ہے ۔
تقریب کے اختتام پر بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین میں بلا سود قرضوں کے چیک تقسیم کئے گئے ۔اس موقع پر پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نادر گل بڑیچ ،رکن قومی اسمبلی روبینہ عرفان، سابق اراکین اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی، غزالہ گولہ، روشن خورشید بروچہ اور دیگر بھی موجود تھے۔











