پونے چار  سال میں عمران خان نے ملک کا 20 ہزار ارب روپے قرضہ بڑھایا؛ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی میڈیا بریفنگ

12

اسلام آباد،16جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ پونے چار  سال میں عمران خان نے ملک کا 20 ہزار ارب روپے قرضہ بڑھایا ہے ، عمران حکومت میں ملک دیوالیہ ہونے جارہا تھا، اتحادی حکومت ملک میں معاشی استحکام لے کر آئی ہے ۔

 ہفتہ کو وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ معاشی استحکام عوامی خوشحالی اقتصادی جائزہ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ  میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے  کہا   کہ  پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اس نااہلی کے دور میں ترقیاتی بجٹ بھی 900 ارب روپے کم کر کے 550 ارب روپے کر دیا اور قومی قرضے میں 19 ہزار 413 ارب روپے یعنی 78 فیصد اضافہ کیا اور یہ قرض 24 ہزار 953 ارب روپے سے بڑھ کر 40 ہزار 366 ارب روپے ہو گیا۔ کل قرض اور واجبات میں 23 ہزار 665 ارب روپے یعنی 79 فیصد اضافہ کیا گیا جو 29 ہزار 879 ارب روپے سے بڑھ کر 53 ہزار 544 ارب روپے پر پہنچ گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل  نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے آخری سال میں تجارتی خسارہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارہ تھا اور وہ 48 ارب ڈالر ہے، برآمدات صرف 40 فیصد درآمدات کا احاطہ کرتی ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں 30.4 ارب ڈالر اور رواں مالی سال میں 35.1 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت پیش آئی۔ ایف بی آر کے ٹیکس کی جی ڈی پی کی شرح صرف 9.1 فیصد رہی جبکہ پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت یہ شرح 8.5 فیصد سے بڑھا کر 11.1 فیصد پر لے کر آئی تھی اور پاکستان تحریک انصاف نے ا س شرح کو ہر سال کم کیا۔

انہوں  نے کہا کہ  پی ٹی آئی کی حکومت کے لگائے گئے نرخوں کی وجہ سے پٹرول کی سبسڈی میں 120 ارب روپے ماہانہ نقصان اور بجلی کی سبسڈی میں ماہانہ نقصان 27 ارب روپے ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے سال بجلی کے شعبہ میں 1070 ارب روپے کا خسارہ ہو جو حکومت کو ادا کرنا پڑا۔ اسی طرح گیس کی مد میں 101 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ بجلی کے گردشی قرضے 1100 ارب روپے سے بڑھ کر 2500 ارب سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ملک کی تاریخ میں بجلی دفعہ گیس کا گردشی قرضہ پیدا ہوا اور بد قسمتی سے بیرونی قرض اور واجبات مجموعی قرضے کا 33 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک ہو چکے ہیں۔ سالانہ قرضوں کی سروسنگ 1500 ارب روپے سے بڑھ کر 3144 ارب روپے ہو گئی ہے۔