چارسدہ کے صحافی افتخار احمد قتل کیس کا ڈراپ سین، صحافی کا شاگرد ہی قاتل نکلا۔   

32

پشاور، 25جولائی(اے پی پی): تفصیلات کے مطابق 2 جولائی کو شبقدر میں قتل ہونے والےسینئر صحافی افتخار احمد کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے ریجنل پولیس افسر مردان یاسین فاروق اور ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد کو جلد از جلد ملزم /ملزمان کی گرفتاری کی ہدایات جاری کیے تھے۔

ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے صحافی افتخار احمد کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کیلئے ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ سجاد خان کی نگرانی میں اے ایس پی شبقدر بلال احمد، ایس ایچ او شبقدر گلشید خان،سی آئی او شبقدر قیصر خان اور دیگر پولیس افسران پر ٹیم تشکیل دی تھی۔ایس ایچ او شبقدر گلشید خان نے ٹیم کے ہمراہ مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کی اور بالاخر واقعے میں ملوث ملزم سیف اللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ملزم سیف اللہ نے شاکر مارکیٹ کے بیسمنٹ میں صحافی افتخار احمد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ملزم سیف اللہ نے اپنی شناخت چھپانے کی خاطر چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقوعہ سے پہلے سی سی ٹی وی کیمرے بند کردیئے تھے۔اور سلینسر لگی پستول سےصحافی افتحار احمد پر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔وقوعہ کے دوران قاتل اور مقتول کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا۔ملزم سیف اللہ صحافی افتخاراحمد کیساتھ میڈیسن/ کاسمیٹک شاپ میں بطور ملازم ڈیوٹی پر مامور تھا۔زبانی تلخ کلامی کے بعد ملزم سیف اللہ نے صحافی افتخار احمد کو تنہا پاکر قتل کردیا۔واقعے کے بعد ملزم نے راہ فرار اختیار کرلی۔پولیس نے جدید سائنسی حطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ملحقہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی فوٹیج اور ملزم کی نقل وحرکت کے بعد ٹھوس شواہد کی بنیاد پر گرفتار کرلیا ہے۔ملزم سے آلہ قتل پستول برامد کرلیا گیا ہے۔ملزم سیف اللہ نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے۔

ڈی پی او چارسدہ کا کہنا ہے کہ امن وامان کی فضا کا قیام اور شہریوں کی تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے۔اور اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے پولیس فورس ھرقسم کی قربانی کیلئے تیار ہے۔