الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر منصفانہ طورپرعمل درآمد ہونا چاہئے؛ وزیردفاع خواجہ محمدآصف کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

22

اسلام آباد،2اگست  (اے پی پی):وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر منصفانہ طورپرعمل درآمد ہونا چاہئے، اگر آج کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینکا گیا تو ہم اپنے پائوں پر کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکیں گے، پارلیمینٹ کے تقدس اور احترام کو چار سالوں میں جس طرح تار تار کیا  گیا اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ،  ملک میں گالم گلوچ اور غیر قانونی حرکات کے سیلاب کے سامنے بند باندھنا ضروری ہے۔

 منگل کوقومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے  خواجہ محمد آصف نے کہا کہ آج صبح الیکشن کمیشن نے  8 سال کے بعد ایک فیصلہ سنایا ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی اتنے زیادہ اختلافی مسئلہ کے اوپر طویل عرصہ تک اداروں نے فیصلہ کرنے کی مثال قائم نہیں کی ہے۔ میاں نواز شریف کے خلاف مقدمہ بنا جس میں ان کو اپنے بیٹے کی کمپنی سے دس ہزار درہم نہ لینے پر نااہل کیا گیا۔ ایک جے آئی ٹی بنائی گئی اس سے فیصلہ کروایا گیا اور انہیں نہ صرف تاحیات سیاست سے نااہل کیا گیا بلکہ ان کو اپنی پارٹی کی صدارت سے بھی محروم کردیا گیا، اب  عمران خان کے خلاف ایک فیصلہ آیاہے ، اس فیصلہ میں عمران خان کے  فارن  ایجنٹ کے تمام شواہد موجود ہیں۔ فارن فنڈڈ ایجنٹ نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت معیشت اور ادارے تباہ کئے۔ ادارے قانون کے مطابق کام کرتے ہیں عمران خان   انہیں گالیاں دیتا ہے  ، کسی کو میر جعفر اور کسی کو میر صادق کہتا تھا۔

 پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اوررکن قومی اسمبلی میاں جاویدلطیف نے قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر  کہا  کہ  عمران خان سرٹیفائیڈ چور اور ڈاکو نہیں بلکہ ملک کا غدار بھی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ  ایک ادارے نے کہا ہے کہ عمران خان نے  پاکستان کے مفادات کو بیچا ہے،  ثاقب نثار والے فیصلے واپس نہ ہوئے تو ملک نہیں چل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک فیصلہ آیا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے کہا  جاتا ہے کہ یہ فارن نہیں بلکہ ممنوعہ  فنڈنگ کیس  ہے، کیا ممنوعہ فنڈنگ جائز ہے،پاکستان کے اندر جماعتوں کو فنڈنگ ہوتی ہے، ملکی تاریخ میں یہ پہلا کیس ہے جس میں غیر ملکی افراد اور کمپنیاں فنڈنگ کر رہی ہیں۔ ان کے مقاصد کیا تھے، کمپنیوں نے کن مقاصد کے لئے پیسہ دیا ہے اور اس کے بدلے میں کیا کیادیا گیاہے۔

اجلاس  میں   کراچی سے رکن قومی اسمبلی محمد ابو بکر نے کراچی کے لئے اعلان و مختص کردہ فنڈز کے فوری اجراء کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ  کراچی ایک ایسا شہر جو 67 فیصد ٹیکس دیتا ہے، کراچی سمندر کے کنارے واقع ہے لیکن مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں پر ٹیکسوں کو واپس لیا جائے، اس حوالے سے کراچی کے تاجر احتجاج کر رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی و یکجہتی کی قرارداد کی منظوری دے دی گئی۔  مولانا عبدالاکبر چترالی نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ بھرپور ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرتا ہے۔ اس میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت متاثرہ لوگوں کے لئے ریسکیو اور ریلیف پیکج اپنانے کے لئے صوبائی حکومت کے تعاون سے بھرپور اقدامات کرے اور ریلیف کے کاموں میں متعلقہ ارکان اسمبلی کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے اور اس ضمن میں ضروری اقدامات کرے۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس  کل   صبح ساڑھے 10 بجے تک کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے ، آج کے  اجلاس میں ایجنڈے میں اہم شامل اہم امور نمٹائے گئے ۔