اسلام آباد،18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت درآمدات پر پابندی ہٹا رہی ہے تاہم پرتعیش اشیاء کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے بھاری ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کرنا ہوں گی۔
جمعرات کو یہاں وزیراعظم کے رابطہ کار برائے معیشت بلال اظہر کیانی اور رابطہ کار برائے تجارت رانا احسان افضل کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ﷲ کا شکر ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اگست کے مہینے میں پاکستان کی کرنسی دنیا کی سب سے اچھی کرنسی ثابت ہوئی ہے، اسی طرح پاکستان کی سٹاک مارکیٹ بھی بہترین مارکیٹوں میں شامل ہوئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں لوگ پیسہ لگا اور کما رہے ہیں۔ حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے مصارف کرے گی، ہماری کوشش ہے کہ درآمدات کا حجم ہماری برآمدات اور ترسیلات زر سے زیادہ نہ ہو۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہماری بات چیت کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں، 29 اگست کو آئی ایم ایف کے انتظامی بورڈ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان کیلئے نئی قسط کی منظوری دی جائے گی، آئی ایم ایف نے اس حوالہ سے پاکستان کو مطلع کر دیا ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کی ہیں جس کی آئی ایم ایف نے بھی تصدیق کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس 4 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ تھا، آئی ایم ایف چاہتا تھا کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 6 ارب ڈالر سے زیادہ ہوں، تین ممالک جن میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں 4 ارب ڈالر پاکستان کو دے رہے ہیں، چین نے بھی 2 ارب ڈالر کے قرضوں کو ری رول کرنے کا کہا ہے، اسی طرح سعودی عرب بھی آنے والے قرضوں کو ری رول کرے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نے 2 ماہ سے پرتعیش اشیاء کی درآمدات پر پابندی تھی، آئی ایم ایف اور عالمی تجارتی تنظیم نے پابندی ہٹانے کا کہا ہے، حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرے، حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ گندم کی بجائے مرسیڈیز اور قیمتی موبائل فون کی درآمد پر قیمتی زرمبادلہ صرف ہو اس لئے حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم اور 2 لاکھ ٹن کھاد درآمد کی، خوردنی تیل اور گھی کی درآمد کیلئے انڈونیشیا سے کامیاب مذاکرات کئے گئے جس کی وجہ سے گھی اور تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے تناظر میں درآمدات پر پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں تاہم حکومت پرتعیش اور لگژری اشیاء کی درآمد پر بھاری ریگولیٹری ڈیوٹیز عائد کرنے جا رہی ہے تاکہ لگژری اشیاء کی درآمدات کی حوصلہ شکنی ہو، یہ ریگولیٹری ڈیوٹیز تین گنا یعنی 400 سے لے کر 600 فیصد تک ہو گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے نرخوں کے حوالہ سے آئی ایم ایف کی شرائط کی تعمیل کی گئی ہے، آئندہ کیلئے نان فنڈڈ سبسڈیز نہیں ہوں گی اور ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ پرائمری خسارہ 153 ارب ڈالر سے تجاوز نہ کر جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینٹل ٹیکس کے حوالہ سے 42 ارب روپے تخمینہ تھا، اس میں بعض غلطیاں ہوئی تھیں جنہیں واپس لیا گیا ہے، اب 27 ارب روپے کا ہدف پورا کریں گے، اس مقصد کیلئے ایک آرڈیننس لے کر آ رہے ہیں جس میں 5 فیصد سیلز ٹیکس اور ساڑھے 7 فیصد انکم ٹیکس ہو گا، اس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیئر ون کے سگریٹ پر ٹیکس کی شرح 1850 روپے سے بڑھا کر 2050 روپے کر دی ہے، ٹیئر ٹو کے سگریٹ پر ٹیکس 6500 روپے کر دیا گیا ہے، اسی طرح تمباکو پر ٹیکس (گرین لیف سس) 10 روپے سے بڑھا کر 380 روپے کر دیا گیا ہے، تمباکو کی کمپنیوں کو ٹریک اینڈ ٹریس نظام میں لایا جا رہا ہے، ایف بی آر اس کی نگرانی کر رہا ہے، اب تک چار کمپنیوں نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم خرید لیا ہے، مزید کمپنیاں یہ سسٹم نصب کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹر انجن پر سیلز ٹیکس ہٹایا جا رہا ہے، اسی طرح بعض زرعی مداخل پر بھی ٹیکس ختم کر رہے ہیں۔











