اسلام آباد،18اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ،اصلاحات وخصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے لئے کامیاب منصوبہ اور گیم چینجر ہے،سی پیک کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں چین نے مدد کرکے آئرن برادر ہونے کا ثبوت دیا،معیشت کو ریڈ زون سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،اب معاشی بحالی پر کام کررہے ہیں۔
ان خیالات کااظہارانہوں نےجمعرات کو سی پیک کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لئے کامیاب اور گیم چینجر منصوبہ ہے، پاکستان نے 2014 میں سی پیک کے تحت 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن کرکے دنیا کو حیران کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں 18سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی،دہشت گردی عروج پر تھی، کوئی سرمایہ کار پاکستان نہیں آنا چاہتا تھا تب چین نے اپنے سرمایہ کاروں کو یہاں بھیج کر دوست ہونے کا ثبوت دیا، چینی صدر کے دورے کے موقع پر 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے بارے میں دنیا کی رائے بدل گئی اور اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری آئی جس سے توانائی کی کمی کو پورا کرنے میں مدد ملی۔
وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہا کہ سی پیک کے تحت قابل تجدید توانائی کے منصوبے لگےجن میں سولر ونڈ،ہارئیڈرل،اور دوسرے منصوبے شامل ہیں، سی پیک کے تمام منصوبے فنانسنگ کے ہیں قرض نہیں ہے، تھر کے کوئلہ کے ذخائر400سال تک توانائی فراہم کرسکتا ہے ان سے سستی بجلی پیدا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے 2017میں 9اقتصادی زونز کا آغاز کیا اور 2020 میں مکمل ہونا تھا، 2020بھی گزر چکا گیا لیکن کوئی بھی اقتصادی زون مکمل نہیں ہوسکا، پانچ پرتو کام ہی شروع نہیں ہوسکا، ہماری کوتاہی کی وجہ سے چین کی سرمایہ کاری کہیں اور چلی گئی۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے کوشش کررہے ہیں سی پیک کے منصوبوں پر دوبارہ تیز سے کام کیا جائے ۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ معیشت کو ریڈ زون سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،اب معاشی بحالی پر کام کررہے ہیں، تین ماہ قبل شرطیں لگ رہی تھیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرجائے گا،اب ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہورہےہیں،آئندہ توانائی کے منصوبوں میں قابل تجدید توانائی کے منصوبے ہوں گے ۔
اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر نوگ رونگ نے کہا کہ سی پیک نے آپ کی رہنمائی میں کامیابی حاصل کی اس پر فخر ہے ۔ ہمیں فجر ہے کہ سی پیک نے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھائیں گے، چین کی کمپنوں نے ٹیکنالوجی اور اپنے تجربے کو پاکستان منتقل کیا ہے۔











