کشمیر کی جدوجہد آزادی کی آواز پہلے سے توانا ہو چکی ، وہ دن دور نہیں جب کشمیری آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوں گے؛ کنونیئر جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ

18

سیالکوٹ،03اگست (اے پی پی):جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ کے کنونیئر ڈاکٹر زاہد غنی ڈار نے کہا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی آواز پہلے سے توانا ہو چکی ہےاور وہ دن دور نہیں جب کشمیری آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوں گے۔

یوم استحصال کشمیر کے  حوالے  سے انہوں نے بدھ کو اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے  کہا کہ5اگست2019 کا بھارتی حکومت کا اقدام غیر آئینی و غیر قانونی ہےجس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے تنازعہ کشمیر کا جلد اور پرامن حل ناگزیر ہے۔

ڈاکٹر زاہد غنی ڈار نے مطالبہ کیا کہ بھارت متنازعہ قانون میں ترمیم واپس لے اور مقبوضہ کشمیر کی 5 اگست 2019 سے پہلے کی حیثیت بحال کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے اقدام سے نہ صرف دنیا بھر کے کشمیریوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی بلکہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے ہر علاقے میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا، بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا اور اپنے آئین میں موجود 370اور37اے کے تحت پورے جموں و کشمیر کو بھارتی عوا م کے لیے کھول دیا گیا،وہ وہاں آ کر زمین کے ملکیتی حقوق لے سکتے ہیں اور یہاں کا ڈومیسائل بھی حاصل کر سکتے ہیں ۔

 جموں و کشمیر فریڈم موومنٹ کے کنونیئر ڈاکٹر زاہد غنی ڈار  نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ ایک بہت بڑا سازشی عمل تھا جس کے ذریعے وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جغرافیائی تبدیلیاں لانے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر ی کی آبادی کے تناسب کو بدلنا چاہتی تھی، بھارتی حکومت کا یہ اقدام وہاں موجود کشمیریوں کو ایک اقلیت میں تبدیل کرنے اور باہر سے غیر کشمیری بھارتیوں کو یہاں لا کر آباد کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہونے والے کسی ریفرنڈم یا انتخاب کی صورت میں بھارت کی حامی قوتوں کو کامیابی مل سکے، جسے کشمیری عوام نےنہ صرف یکسر مسترد کردیا بلکہ اسکے خلاف بھرپورا ور مؤثر آواز بھی اٹھائی جسے بھارت نے ظلم و جبر کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جس میں اسےماضی کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

 انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقل رہائشی خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو، سکھ ہوں یا بدھ مت سب اپنے ریاستی حقوق کے لیے یک زبان ہیں، حتیٰ کہ یہاں موجود بھارت نواز قوتیں بھی کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف ہیں اور احتجاج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی انتہا پسند حکومت جس روش پر چل رہی ہے وہ خطے کے عدم استحکام کا بھی باعث بن سکتا ہے جس کے لیےانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو بھارت کے اس ظالمانہ اقدام کا نوٹس لینا چاہیئے اور کشمیریوں کو انکا بنیادی حق دلوانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔