فتنہ ،فساد، شیطانی مارچ کا بھید افشا کرنے پر اپنے ہی قریبی ساتھی کو بغیر ضابطے کی کارروائی کے پارٹی سے نکال دیا ؛وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

17

اسلام آباد،29اکتوبر  (اے پی پی):وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فتنہ ،فساد، شیطانی مارچ کا بھید افشا کرنے پر اپنے ہی قریبی ساتھی کو بغیر ضابطے کی کارروائی کے پارٹی سے نکال دیا اور اب انہی کے ایک سابق وزیر علی امین گنڈا پور کی آڈیو لیک سامنے آگئی ہے جس میں وہ  مسلح جتھے کیلئے اسلحہ، لائسنس اور بندے اکٹھے کرنے اور اسلام آباد کے سنگم پر  کسی آبادی میں ٹھہرانے کی تیاریوں کا احوال پوچھ رہے ہیں، آئین اور جمہوریت پر یقین رکھنے والا کوئی بھی شخص فتنہ فساد پر یقین نہیں رکھتا، یہ فتنہ قوم کو تقسیم اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، ان کا مقصد لاشیں گرانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو فتنہ فساد مارچ کو خونی مارچ بنانے کے تحریک انصاف کے ارادوں کے حوالے سے بعض شواہد اورثبوت میڈیا سے شیئر کرتے ہوئے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فتنہ فساد کے شیطانی مارچ تک میڈیا کو زحمت دیتے رہیں گے، ایک ایسا ثبوت پیش کرنے جا رہا ہوں جو اس بات کی تصدیق کرے گا کہ یہ فتنہ مارچ ہے اور  فساد برپا کرنے کی ایک سازش ہے اور جس طرح سے ان کے ایک قریبی ساتھی نے چار دن قبل انکشاف کیا  کہ یہ خونی مارچ ہو گا اس میں مجھے خون ہی خون، لاشیں ہی لاشیں اور بڑے بڑے لوگوں کے جنازے نظر آ رہے ہیں تو شیطانی فتنہ نے  بغیر ضابطے کی  کارروائی کے  اسے  فوری طور پر پارٹی سے باہر نکال دیا ۔ کیونکہ اس نے  آپ کا انتہائی ملک دشمن اور گھٹیا ایجنڈا بے نقاب کردیا اور اب اس کی آپ کو ضرورت نہیں رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک فتنہ ہے، یہ قوم کو تقسیم اور نوجوانوں کو گمراہ کرنا چاہتا ہے اور یہ سیاستدان نہیں اور اس کا رویہ بھی جمہوری نہیں ہے کیونکہ سیاستدان ایسا نہیں کہتاکہ اپوزیشن کو نہیں چھوڑوں گا، اپوزیشن سے مذاکرات کی بجائے موت کو ترجیح دوں گا، ایسی باتیں کوئی سیاستدان اور جمہوریت پر یقین و ایمان رکھنے والانہیں کر سکتابلکہ صرف فتنہ ہی ایسی بات کرسکتا  ہے۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ فتنہ شیطانی کھیل کو اس شیطانی مارچ کے ذریعہ پوراکرنا چاہتا ہے ، اسلام آباد آ کر جلسہ کرنا اس کا مقصد نہیں اور جن جگہوں کا سپریم کورٹ نے تعین کیا ہے وہاں دھرنا دینا بھی اس کا مقصد نہیں ہو سکتا، اس کا مقصد ہے کہ یہ لاشیں گرائے، امن و امان کی ایسی صورتحال پیدا کرے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لوگ الجھ  پڑیں اور اس عمل سے جو نقصان ہواس کا خمیازہ اور ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈال دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فتنہ اسی قسم کی تیاری کیلئے لگاہوا ہے جسے نہ تو اس بات پر شرمندگی ہے اور نہ ہی ملک کے نقصان کی کوئی فکر ہے  بلکہ اس نے اس وقت بھی یہ نہ سوچا جب اس نے سائفر کی سازش رچائی اور  ڈھٹائی اور سکون کے ساتھ اپنے سیکرٹری کو کہتا رہا  کہ ہم نے اس سے کھیلنا ہے  اور رجیم چینج کا بیانیہ گھڑا۔ انہوں نے کہا کہ  ایک اور ثبوت پیش کرنے جا رہا ہوں اور اس طرح کی غیر اہم شخصیات کے بہت سے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں جو فتنہ فساد مارچ کی سازش کو بے نقاب کرتے ہیں، ایک سابق وفاقی وزیر کی گفتگو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جو ریکارڈ پر ہے جس میں بہت سارے چھوٹے چھوٹے کریمینل گروپس کو جس  میں گجرات بھی پیش پیش ہے انہیں بھی اس کام پر لگایا ہواہے کہ خون خرابہ ہو۔

وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو علی امین گنڈا پور کی ریکارڈ شدہ گفتگو بھی سنائی جس میں  علی امین گنڈا پور کسی نامعلوم شخص کو کہہ رہے کہ  بندوقیں کتنی ہیں، کیا پوزیشن ہے۔پی ٹی آئی راہنما اور سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کی نامعلوم شخص سے بندوقیں اور بندے لانے کی آڈیو لیک کا متن کچھ اس طرح ہے ” نامعلوم شخص: جی علی خان علی امین گنڈا پور: صدر صاحب کیا پوزیشن ہے ؟نامعلوم شخص: سر پوزیشن تو اے ون ہے۔ آپ سنائیں؟علی امین گنڈا پور: بندوقیں کتنی ہیں؟نامعلوم شخص: بہت ہیں علی امین گنڈا پور : لائیسنس ؟نامعلوم شخص: لائیسنس بھی بہت ہیں؟ علی امین گنڈا پور: بندے ؟نامعلوم شخص: بندے بھی جتنے چاہئیں ہوں گے سر  علی امین گنڈا پور: ا چھا! ہم یہاں کیمپ لگا رہے ہیں ساتھی ہی قریب ہی کالونی میں، نامعلوم شخص: جی علی امین گنڈا پور: یہاں قریب ترین جگہ کون سی ہے آخر میں ؟کون سی کالونی ساتھ لگ رہی ہے۔ نامعلوم شخص: ہمارے ہاں ؟علی امین گنڈا پور: بارڈر پہ ۔۔ بارڈر پہ ۔۔ اسلام آباد پنڈی کے بارڈر پر ۔ ٹول پلازے کے بعد لیفٹ سائیڈ پر ۔ کون سی جگہ ہے ۔ ٹاپ سٹی ہے یا کیپیٹل نامعلوم شخص: ٹاپ بھی ، کیپیٹل بھی ہے، بہت ساری ہیں بتائیں علی امین گنڈا پور: ٹاپ تو ائیر پورٹ پر ہے ناں نامعلوم شخص: ٹاپ تو ائیر پورٹ والی سائیڈ پر ہے ناں۔۔ میں نے پورا نقشہ بھیجاتھا آپ کو علی امین گنڈا پور: وہ ملا ہوا ہے مجھے ، وہ ہے میرے پاس علی امین گنڈا پور: بس بندے اور سامان آپ ریڈی رکھیں وہاں پر نامعلوم شخص : سر کوئی مسئلہ نہیں، ان شااللہ علی امین گنڈا پور: بس پھر رابطے میں ہیں ، ان شااللہ نامعلوم شخص: جی سر، ان شااللہ”۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ  اب سوال یہ ہے کہ جس نے بات عام کی اسے تو آپ نے پارٹی سے نکال دیا اور اب یہ کیا کرنے کیلئے ایسا کہا جا رہا ہے، یہ لاشیں گرا کر سانحہ پیداکرنا چاہتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے ایک صحافی کی تصاویر کو اپنے لانگ مارچ میں ڈسپلے کیا اورجس طرح اس کا غم منایا اور مذموم مقصد کیلئے استعمال کیا اسی طرح اس گفتگو سے  ثابت ہوگیا ہے کہ یہ آدمی ایک فتنہ ہے، یہ ملک کو فتنہ اور فساد سے دوچار کرنا چاہتا ہے، اس کا قوم کو ادراک کرنا چاہئے اور اس فتنہ کا سر ابھی کچلنا چاہئے ورنہ یہ ملک اور قوم کو کسی حادثہ سے دوچار کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ  یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، بطور وزیر داخلہ یہ میری ذمہ داری ہے اور اگر ہم یہ ذمہ داری پوری کرتے ہی تو  کسی جانب سے یہ آواز نہیں آنی چاہئے کہ پرامن احتجاج ہے اور یہ پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے، پرامن احتجاج کی آئین اور جمہوریت  میں گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص تو آئین اور جمہوریت کومانتا ہی نہیں، جمہوریت میں مخالف رائے کو عزت دینا پڑتی ہے اور احترام کرنا پڑتا ہے۔ یہ کہتا ہے میں چھوڑوں گا نہیں۔ اس لئے یہ ہماری، اداروں،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ ان باتوں کو منظرعام پر لائیں، انہیں چیلنج ہے کہ  یا تو یہ گفتگو کو غلط ثابت کریں یا چیلنج کریں، اس کا فرانزک آڈٹ کرالیتے ہیں اور اگر درست ثابت ہوجائے تو اس پر ایکشن لینا حکومت کی ذمہ داری اور فرض ہے اور  اگر وہ اس سے بھاگتے ہیں، کوئی جواز گھڑتے ہیں اور کوئی بیانیہ بناتے ہیں ، اسے کسی خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ ہم ہر قیمت پر وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے جان و مال، املاک، عمارتوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کریں گے اور کسی مسلح جتھےکوچڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہمارے علم میں اور بھی جتھے ہیں جن کی تیاریاں، گفتگو ہمارے علم میں ہے لیکن  ان کے نام اتنے معروف نہیں، ان کے خلاف وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایکشن لینا پڑے گا۔  انہوں  نے کہا کہ کے پی کے کی حکومت خاص طور پر آئی جی اور چیف سیکرٹری کو خبردار کرتا ہوں کہ اس بات کا نوٹس لیں، علی امین گنڈا پور اور گفتگو کرنے والا شخص آپ کی حدود میں ہے، انہیں اور جن بندوں کو لانے کی بات کی جارہی ہے انہیں گرفتار کریں اور اسلحہ اپنی تحویل میں لیں اور اگر اس قسم کا کوئی گروہ کے پی کے سے اسلام آباد  کی حدود یا اس کے قرب و جوار میں جمع ہوتا ہے تو آپ براہ راست اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ اسی طرح پنجاب حکومت اور آئی جی اور چیف سیکرٹری سے بھی کہوں گا کہ ہم نے آپ سے معلومات شیئر کی ہیں، کل بھی مسلح لوگ لبرٹی چوک سے شامل تھے اور آج بھی شامل ہوئے، گجرات کے لوگ شامل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں اورگجرات میں بھی مخصوص حالات اور سیاست کی وجہ سے بندوقیں اور بندے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ انہیں کہوں گا کہ آپ قوم اور ریاست کے خدمت گار ہیں، آپ کسی ایسے بدبخت اور شیطانی عمل جو اس ملک میں فتنہ فساد، افرا تفری، انارکی پھیلانا چاہتا ہے اس کے بیانیہ میں نہ آئیں اور قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کریں۔