اسلام اور پاکستان کا مقدمہ جس طرح علامہ  اقبال نے پیش کیا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا، سابق آئی جی پنجاب زوالفقار احمد چیمہ

14

سیالکوٹ,17نومبر  (اے پی پی):سابق آئی جی پنجاب زوالفقار احمد چیمہ نے کہا ہے کہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال  دنیائے اسلام کے محسن ہیں، قدرت نے انہیں حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا، اسلام اور پاکستان کا مقدمہ جس طرح علامہ محمد اقبال نے پیش کیا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں  سیالکوٹ چیمبر آف کامرس ایند انڈسٹری  علامہ اقبال کونسل کے زیر اہتمام   منعقدہ ایک تقریب “اقبال کا پیغام ہم سب کے نام”کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے  کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی ایک ہزار سالہ تاریخ میں کے سب سے بڑے شاعر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا تعلق سیالکوٹ سے ہے جو ہم سب اور بالخصوص سیالکوٹ کے باسیوں  کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہیں اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا علامہ محمد اقبال کی قدر کرتی ہے، ایران میں تو انہیں قومی شاعر کا درجہ دیا گیا ہے، ایک نہیں بلکہ کئی ملکوں نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی نظموں کو اپنے قومی ترانے میں شامل کر لیا ہے،ڈاکٹر  مہاتیر محمد، رجب طیب اردگان اور دیگر ممالک کے سربراہان علامہ محمد اقبال کو شاعر اعظم کہتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ہماری آزادی، ہمارے حقوق، سب کچھ پاکستان کے طفیل ہے جو علامہ محمد اقبال کے دو قومی نظریے ، خواب اور قائداعظم محمد علی جناح کی محنت کا نتیجہ ہے، علامہ محمد اقبال نے ہی دو قومی نظریہ دیا اور قائداعظم محمد علی جناح کو جدوجہد کے لیے آمادہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ محمد اقبال ہمارے محسن ہیں اور ہمیں اپنے محسنوں کے یوم پیدائش کو شایان شان طریقے سے منانا چاہیئے، اقبال ہی نے ہی مسلمانوں کو بتایا کہ غلامی تمہارا  مقدر نہیں بلکہ تم نے ہی دنیا کی امامت کرنی ہے ۔سابق آئی جی پنجاب زوالفقار احمد چیمہ کا کہنا تھا کہ  نوجوان علامہ محمد اقبال کی دلچسپیوں کا بہت بڑا  محور تھے ، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ نوجوان ہی معاشرے کو بہتر طریقے سے آگے لے جا سکتے ہیں، اقبال نوجوانوں میں شاہین کی سی پرواز دیکھنا چاہتے تھے اور شاہین ہی کی صلاحیتوں کو نوجوانوں میں دیکھنے کے خواہاں تھے ، یہی وجہ ہے کہ انکی شاعری کا بڑا حصہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ہے،  انہوں نے شاہین کے سر پر موجود کلغی کو دستار سے تشبیہ دی کیونکہ دستار کبھی کووں کو نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ شعروشاعری کو عزت و عظمت علامہ محمد اقبال نے بخشی جبکہ کئی ملکوں کی آزادی علامہ محمد اقبال کے انقلابی کلام کی مرہون منت ہے۔