اسلام آباد ، 28 نومبر (اے پی پی ): پاکستان میں انڈونیشیا کے سفارتخانے اور کامسٹیک کے مشترکہ اشتراک سے کامسٹیک سکریٹریٹ اسلام آباد میں جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات کے پائیدار استعمال و فوائد پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
بین الااقوامی سیمینار میں ایران، انڈونیشیا، برطانیہ، سمیت بین الاقوامی سنیٹر برائے کیمیکل و بیالوجکیل سائنسز کراچی یونیورسٹی کے پروفسیرز اور ماہرین نے جڑی بوٹیوں اور روایتی ادویات کے پائیدار استعمال کے لیے لیکچرز دیے۔ مقررین نے جڑی بوٹیوں کی حفاظت اور متبادل استعمال کی آگاہی پر زور دیا۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں کورآرڈنیٹر جنرل کامسٹیک ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ پچھلی چند دہائیوں میں محفوظ، موثر، اور ماحول دوست جڑی بوٹیوں کی ادویات میں دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے، ان میں سے زیادہ تر جڑی بوٹیوں کی ادویات کی جڑیں مقامی ادویات کے نظام میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک میں کئی ممالک صدیوں سے اس طرح کے روایتی علم کے تاریخی محافظ رہے ہیں،خاص طور پر پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک جڑی بوٹیوں کی ادویات کے سب سے بڑے ذرائع ہیں اورر یہ عالمی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی ادویات اور روایتی علم میں دلچسپی روز بروز بڑھ رہی ہے، تاہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں تحقیق پر مبنی سائنسی ترقی اور جڑی بوٹیوں کے کھود کے معیار کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کامسٹیک او آئی سی، رکن ممالک میں ربط بڑھانے اور ان کو اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے کام کررہا ہے یہ جزبہ مزید بڑھے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر ایڈم ایم ٹوگیو نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد اور دوران میں علاج کے روایتی طریقوں اور متبادل ادویات کے استعمال اور اعتماد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا گزشتہ وبائی وائرس کے بعد بڑی بڑی دوا ساز کمپنیوں نے روایتی دوائیوں اور جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ دوائیوں کی صنعت میں نہ صرف دلچسپی ظاہر کی بلکہ سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیاء جڑی بوٹیوں کی نعمت سے مالا مال ہیں، بڑے پلیٹ فارمز بنا کر اسے استفادہ۔حاصل کیا جاسکتا ہے۔
بین لااقوامی سیمینار میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش، جبوتی، مصر، آزربائجان، گبون، سوڈان، نائجریا ، مراکش، ایران، یوگنڈا، پاکستان اور ملائشیاء سے 400 طلبہ و طالبات، محققین اور ادویات سازی کی صنعت سے جڑے ماہرین شرکت کررہے ہیں۔











