اسلام آباد،17نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار تسنیم احمد قریشی نے نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن (این پی او) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صنعت، سروس سیکٹر اور موثر عوامی حکمرانی میں مسابقت اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ انہوں نے مقامی اور عالمی منڈیوں میں مقابلے کے لئے پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صنعت و پیداوار کی وزارت پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی کوششوں میں نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن کی مدد کرے گی۔قبل ازیں سی ای او نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن محمد عالمگیر چوہدری نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کو این پی او پاکستان اور اے پی او (جاپان) کے مینڈیٹ، خدمات اور مختلف منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔انہوں نے آگاہ کیا کہ اے پی او، جاپان اور نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن پاکستان ملک میں پیداواری صلاحیت میں بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اے پی او خطے میں پیداواری مہم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اے پی او کی خدمات ملکی اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے موجودہ دور کے تقاضوں کو از سر نو ترتیب دے رہی ہیں اور ملک میں مسابقت کو بڑھانے اور اعلیٰ پیداواری کلچر کو حاصل کرنے میں برآمدی شعبوں کی مدد کر رہی ہیں۔سی ای او این پی او نے وضاحت کی کہ پیداواری لاگت میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ نہیں پا سکتیں۔مسابقت کو بہتر بنائے بغیر، عالمی اور مقامی طور پر مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ اس بات کی وجوہات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی پیداواری صلاحیت کم کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاپور، کوریا، جاپان، چین اور ملائیشیا چند مثالیں ہیں جنہوں نے بہتر مسابقت (بنیادی طور پر بہتر پیداواری صلاحیت) اور اختراعی حکمت عملیوں کی بنیاد پر اپنی معیشتوں کو تبدیل کیا۔ کامیابی کے دیگر اہم حقائق میں اعلیٰ قیادت کا عزم اور بڑے پیمانے پر مہم اعلیٰ پیداواری کلچر لانے کے لیے بنیادی تقاضے ہیں۔
سی ای او نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو کورین ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (کے ڈی آئی ) کی طرف سے تیار کئے جانے والے قومی پیداواری ماسٹر پلان (این پی ایم پی ) کے آئندہ میگا پروجیکٹ کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل پروڈکٹیوٹی آرگنائزیشن بورڈ کی قابل قیادت نے پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ ریونیو حاصل کیا اور کمپنی کو 3 سال کے عرصے میں خسارے سے نکال کر سرپلس کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے پاکستان میں پیداواری کلچر لانے میں نیشنل پروڈکٹیویٹی آرگنائزیشن کی کوششوں کو سراہا۔











