فل کورٹ کمیشن عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرے ، کمیشن کی تشکیل کیلئے جلد چیف جسٹس کو خط لکھوں گا؛وزیراعظم محمد شہبازشریف

19

لاہور،5نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ فل کورٹ کمیشن عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرے ،وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے کمیشن سے بھر پور تعاون کرے گی، کمیشن کی تشکیل کیلئے جلد چیف جسٹس کو خط لکھوں گا، عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد سے جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں ،واقعہ کے بعد الزام تراشیاں کرنا افسوس ناک ہے ، جھوٹ اور پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،عمران خان پتھر دل شخص ہے جسے دوسروں کا کوئی احساس نہیں۔

ہفتہ کو یہاں ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں پیش آنیوالے واقعہ کی ہم نے مذمت کی ،گزشتہ دنوں بدقسمتی سے افسوس ناک واقعہ پیش آیا ، وزارت داخلہ کو معاملے کی تحقیقات کی فوری ہدایت کی ہے، افسوس ناک واقعہ کے بعد میں نے اپنی پریس کانفرنس ملتوی کر دی تھی ، فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق کارکن کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ۔

 وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام زخمیوں کی جلد سے جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں ، واقعہ کے بعد الزام تراشیاں کرنا افسوس ناک ہے ، جھوٹ اور پروپیگنڈے سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اداروں پر الزامات لگانے کا سلسلہ  بند ہونا چاہئے،عمران خان کی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دن رات جھوٹ بولنے والا شخص افواج پاکستان پر حملہ آور ہے،عوام کے ساتھ جھوٹ بولنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، ادارے کے خلاف سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف مہم پر بھارتی میڈیا شادیانے بجا رہا ہے، اداروں پر الزامات لگا کر دشمن کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے،مجھ پر جھوٹے مقدمات گزشتہ حکومت نے بنائے۔ انہوں نے کہا کہ طیبہ گل کو وزیراعظم ہائوس میں حبس بے جا میں رکھا گیا، عمران خان نے اپنے دور میں اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، عمران نیازی ہم پر لگائے گئے الزام ثابت نہ کر سکا،نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی مجھے بے گناہ قرار دیا ہے۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت وزیر آباد واقعہ کی تحقیقات کرائے،22 کروڑ عوام کا مفاد میں اپنی ذات کیلئے قربان نہیں کر سکتا،عمران خان نے سیاسی مخالفین کے خلاف مذہب کارڈ کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونیوالے کارکن کا ابھی تک پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہوا، لانگ مارچ کی سکیورٹی کی ذمہ داری پنجاب حکومت کی تھی،عمران خان اپنے قتل کی سازش کے ثبوت عوام کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہیرے جواہرات لوٹنے والا دوسروں پر الزامات لگاتا ہے، ماڈل ٹائون واقعہ پر عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کی، عمران خان واقعہ کے فوری بعد شوکت خانم کیوں پہنچ گئے، میڈیکولیگل ضابطے اور قانون کے مطابق سرکاری ہسپتال میں ہوتا ہے۔

 محمد شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی 75 سالہ سیاسی تاریخ میں ملک پر بہت بڑا بوجھ ہے،عمران خان نے رانا ثناء اللہ کے خلاف ذاتی خواہشات پر منشیات کا کیس بنوایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا انسان کا نہیں بلکہ پتھر کا دل ہے، عمران خان محسن کش انسان ہے،عمران خان اپنے قریبی دوست نعیم الحق کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے، عمران خان پتھر دل شخص ہے جسے دوسروں کا کوئی احساس نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عدالتوں نے ان کے دور میں میری اور رانا ثناء اللہ کی ضمانتیں منظور کیں، عمران خان کی بدعنوانی کے ثبوت عوام کے سامنے آ چکے ہیں، عمران خان نے ارشد شریف کے معاملے کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا، جلائو گھیرائو کی سیاست ہم نے کبھی نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر جن اداروں نے احسان کیا وہ انہی کے خلاف زبان درازی کر رہے ہیں، عمران خان کی حکومت آئینی طریقے سے ہٹائی گئی، لسبیلا میں پیش آنیوالے حادثہ پر سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جلائو گھیرائو اور حملہ کرنے کی باتیں کر رہا ہے، مسلح افواج ملکی سلامتی کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے،عمران خان جن کے بارے میں ایمانداری کی باتیں کرتے تھے بعد میں انہی کے خلاف بد زبانی کرنے لگے، ان میں چیف الیکشن کمشنر ہو یا مسلح افواج کا سربراہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر فائرنگ کے و اقعہ میں اگر میں، وزیر داخلہ یا افواج پاکستان کا کوئی بھی سینئر افسر ملوث پایا گیا تو میں ہمیشہ کیلئے سیاست چھوڑ دوں گا۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی مفاد کی خاطر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے التماس ہے کہ وہ فل کورٹ کمیشن بنائیں، فل کورٹ کمیشن عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرے ، فتنہ و فساد کی خاطر حقائق سامنے لانا ناگزیر ہے، وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے کمیشن سے بھر پور تعاون کرے گی، کمیشن کی تشکیل کیلئے جلد چیف جسٹس کو خط لکھوں گا اور چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ یہی کمیشن ارشد شریف کے کیس کا بھی تفصیلی جائزہ لے۔