نوجوان نسل کو علامہ اقبالؒ کے فلسفہ سے روشنا س کرانے کی ضرورت ہے،سینیٹر عرفان صدیقی

19

اسلام آباد،10نومبر  (اے پی پی):مسلم لیگ(ن) کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہےکہ علامہ اقبالؒ نے شاہین کی صفات سے نوجوان نسل کو روشناس کرانے اور بیداری کی ایک کوشش کی ہے ہمیں آج کے دور   میں  نوجوان نسل کو علامہ اقبالؒ کےاس فلسفہ سے روشنا س کرانے کی ضرورت ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں انفارمیشن سروس اکیڈمی میں  ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکشنز (ڈیمپ)کے زیراہتمام اقبال ڈے کی مناسبت سے  خطاطی اور ڈیجیٹل مصوری کے فن پاروں کی نمائش اور رونمائی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ ڈاکٹرمحمد اقبالؒ کی شاعری ایک سمندر ہے  جسے پڑھنے کےلئے ضبط چاہئے، علامہ اقبالؒ  کو اپنے اشعار کی وسعت، اہمیت اوراثر پذیری کا اندازہ اپنی زندگی میں ہوگیا تھا ،انہیں اندازہ تھا کہ ان کی شاعری کن کن علاقوں کے  بے عمل لوگوں کوزندگی، آزادی ، تگ ودو کا درس دے رہی ہے جس کا انہوں نے اپنی شاعری میں تذکرہ بھی کیا ہے، علامہ اقبال کی شاعری ہماری بہت سے کم نصیبیوں میں سے ایک نکلی جو ہماری زندگیوں میں شمع فروزاں روشن نہ کرسکی جس کا درس علامہ اقبالؒ نے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے  کے عظیم درس سے دیا ہے۔

  انہوں نے کہا کہ یہ اینٹ گارے پتھر کے شہر اورمکان  تعمیر کا جہاں نہیں، علامہ اقبالؒ نے شاہین کی صفات سے نوجوان نسل کو روشناس کرانے اور بیداری کی ایک کوشش کی ہے ہمیں آج کے دور میں شاہین کی انہی صفات  سے اپنے بچوں کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے کیونکہ شاہین اقبال کاوہ پسندیدہ پرندہ ہے جو درویشوں کی طرز پر چٹانوں پر بسیرا کرتا ہے اورمردہ خوراک کی بجائے اپنا شکار خود کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے شاہین کی ان صفات کو اپنی شاعری کا حصہ بنا کر اپنی  نسل کو بیدارکرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ہم ان صفات پرعمل پیرا ہوکر اپنے اندر عملی جدوجہد اور تگ ودو کے ارفع  مقاصد کو حاصل کرسکیں اور بدقسمتی سے  آج ہم ایک آزاد خودمختار مملکت میں تو رہ رہے ہیں لیکن ہم نے اقبال کی فکر کو نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی اقدار کو سستے نعروں اور ایسے اقدامات کی نذر کردیا ہے جس سے ہماری اقدار بری طرح پامال ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے جس نوجوان کا ذکر کیا ہے وہ بلند پرواز اور دنیا بدل دینے والا جوان ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے رفقا سے مشورہ کیا کہ علامہ اقبالؒ کے دن کے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہئے تو میں نے  انہیں چھٹی بحال کرنے کا مشورہ دیا اورکہا کہ یہ ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ اس کےلئے پورے مہینے کے پروگرام ترتیب دینے چاہئیں اور اس مقصد کےلئے آج ایک اہم اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اقدار کی جانب لوٹنا ہوگا۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ چند سو ڈالروں کےقرض کےلئے ہمیں دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور اقبال نے فلسفہ خودی میں اس بات کی نفی کی ہے۔   ہمیں اپنی نوجوان نسل کوبتانا ہوگا کہ علامہ اقبال اور قائداعظم نے ہمیں کیا تعلیمات دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکشنز (ڈیمپ)کی کاوش قابل ستائش ہے کہ انہوں نے نوجوان نسل کو علامہ اقبال کی شاعری سے روشناس کرانے کےلئے بچوں میں خطاطی کے مقابلے کرائے اور آج اس کی نمائش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے ہم اپنی نوجوان نسل کو اپنے اسلاف کی تعلیمات اور اقدار سے روشناس کراسکتے ہیں جس طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں سینیٹرعرفان صدیقی  نے سیکرٹری اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد، ڈائریکٹر جنرل ڈیمپ   عمران وزیر، ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات ونشریات و  منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن سہیل علی خان   اور وزارت اطلاعات ونشریات کے دیگر افسران کے ہمراہ   علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری پرمبنی مختلف سکولوں اورکالجوں کے طلبہ و طالبات کی طرف سے تیار کردہ خطاطی کے فن پاروں کی نمائش کا بھی افتتا ح کیا اور مقابلے میں پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں تعریفی اسنا د تقسیم کیں۔

تقریب سے  ‘‘اقبال’’  بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے سابق ڈائریکٹرپروفیسر طالب حسین سیال نے بھی خطاب کیا اور ڈیمپ کی کاوش کو خراج تحسین پیش کیا۔  اس موقع پر خطاطی کے فن پاروں کی نمائش کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنزکی طرف سے تیار کردہ ڈیجیٹل مصوری کے دستاویزی فن پاروں کی بھی نمائش کی گئی اور لاہور برانچ کے تیار کردہ ڈیجیٹل کلام اقبال کی دستاویزی  فلم کی نمائش بھی کی گئی۔