اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن ڈویژن خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے فلیٹ میں اس وقت صرف 23 جہاز فعال ہیں، آئندہ تین ماہ میں مزید 6 نئے جہاز شامل ہونے سے یہ فلیٹ 29 جہازوں پر مشتمل ہوجائے گا، پی آئی اے کی مالی حالت ماضی میں میرٹ کے برعکس بھرتیوں اور سیاسی بنیادوں پر ملازمین کو ریگولرائز کرنے کی بناء پر تباہی کا شکار ہوئی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پی آئی اے کے ملکیتی ٹرپل سیون 12 اور اے ٹی آر 4ہیں، 13 اے 320 میں سے 6 پی آئی اے کی ملکیت ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور سے اسلام آباد کے لئے ایک نجی ایئرلائن نے آپریشن شروع کردیا ہے، پی آئی اے کے لئے ابھی تجارتی طور پر یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 23 جہاز فنکشنل ہیں۔ آئندہ تین ماہ میں مزید چھ نئے جہاز شامل ہونے سے پی آئی اے کا فلیٹ 29 جہازوں پر مشتمل ہو جائے گا۔ ناکارہ جہازوں پر پی آئی اے کو رقم خرچ نہیں کرنی چاہیے۔ دنیا نئی ٹیکنالوجی کی طرف جارہی ہے، ہمیں بھی جانا چاہیے۔ کوئٹہ سے نجی ایئرلائن کو حکومت نے اجازت دی ہے۔ پی آئی اے کی مالی حالت میرٹ کے برعکس بھرتیاں کرنے سے تباہ ہوئی۔ ماضی میں ملازمین کو سیاسی بنیادوں پر ریگولرائز کیا گیا۔











