پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والا واقعہ افسوسناک  ہے، ایسے متشددواقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے؛وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

9

سیالکوٹ،4نومبر  (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران پیش آنے والا واقعہ افسوسناک  ہے ، اس طرح کے متشددواقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہےلیکن ایسے واقعات کو سیاسی فائدے  یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جانا بھی قابل مذمت ہے۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سیالکوٹ کینٹ میں وریو ہائوس  میں  منعقدہ  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے کسی زخمی کا کوئی ملاحظہ نہیں ہوا اور نہ ہی آج تک کوئی ایف آئی آر ہی  درج  کرائ گئی  ہے، یہ لوگ اپنی مرضی کی ایف آئی آر بنانے کے لیے کوشاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ابھی تک  اس واقعے کی کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے بخوبی تیار ہے لیکن جہاں یہ  افسوسناک واقعہ پیش آیا وہاں مارچ  اور اسکے شرکاء  کو سکیورٹی فراہمی کی ذمہ داری پنجاب حکومت کی بنتی ہے ، پنجاب حکومت نے اپنے فرائض درست طریقے سے سرانجام نہیں دئیے جو پنجاب حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہےاس لیے  پنجاب حکومت کی ناکامی کا  ملبہ  کسی اور پر ڈالنا کسی صورت بھی درست عمل نہیں ۔

 وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ حالانکہ واقعے کے ملزم جسے پنجاب پولیس نے حراست میں لیا اور اسی پنجاب بلکہ گجرات کی  پولیس نے اس کا وڈیو بیان بھی ریکارڈ کیا جس میں ملزم نہ صرف  فائرنگ کا اعتراف  کر رہا ہے بلکہ افسوس کااظہار بھی کر رہا ہے کہ اسکا نشانہ خطا کیوں ہوا لیکن اسکے باوجود عمران خان  اپنی  مرضی  کی ایف آئی آر درج کرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان   جن کے قول و فعل میں ہمیشہ تضاد رہا ہے جو یوٹرن کے ماسٹر ہیں  اور یہ اعزاز بھی انہی  کو حاصل ہے کہ وہ پرویز الٰہی جسے وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے اسی کو انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا، اب انہیں چاہیئے کہ  پنجاب کی صوبائی حکومت سے پوچھیں کہ انہوں نے کہاں کوتاہی کی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سیاسی فوائد کے حصول کے لیے کسی کو بھی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ کی جو صورت حال تھی وہ سب جانتے ہیں گکھڑ، وزیرآباد تک پہنچتے پہنچتے لوگ اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے ، جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت وہاں صرف 2500 کے لگ بھگ لوگ موجود تھے ، 20 سے 25 لاکھ لوگ لیکر اسلام آباد آنے  کا دعوی کرنے والا  عمران خان پورے ملک میں کسی بھی شہر کے اندر 500 سے زیادہ لوگ نہ نکال سکا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو بتانا چاہیئے کہ اس کے لاکھوں گھر عوام کو دینے، لاکھوں نوکریاں نوجوانوں کو دینے اور وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کے دعوے کرنے کا بیانیہ کہاں گیا ؟ کہاں دئیے لوگوں کو گھر، کہاں دیں نوجوانوں کو نوکریاں اور کہاں بنایا وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی ؟ یا بس زبانی جمع خرچ ہی ہے ۔

  وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ خدارا  اب تو عوام کو گمراہ کرنا  چھوڑ دو کیونکہ اب عوام آپ کے حقیقی چہرے کو پہچان چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ آپ سرٹیفائیڈ چور ہو اور یہ ثابت بھی ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اینڈ کمپنی کو سب سے بڑا سیاپہ آرمی چیف کی تعیناتی کا ہے ، عمران خان چاہتے تھے کہ وہ 29 نومبر کو ہونے والی آرمی چیف کی تعیناتی اپنی مرضی سےخود کرتے اور اگلے پانچ سال بھی ہم پر براجمان رہتے لیکن   افسوس کہ انکی یہ حسرت، حسرت ہی رہی کیونکہ ہوتا تو وہی ہے جو میرے اللہ کو منظور ہو اور اس نے یہ عزت وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بخشی اور وہی 29 نومبر کو آرمی چیف تعینات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور  اللہ کا شکر ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ آرمی چیف  تعیناتی کا اعزاز بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) ہی کے پاس ہے۔

 خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئین شکنی بھی کی ہے اسکے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ بھی درج ہو گا اور آئندہ چند روز میں یہ سارا ملبہ صاف ہو جائے گا،  وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اس کے ساتھ بھی نہیں رہے گا۔  انہوں نے کہا کہ قائد میاں محمد نواز شریف کی ہدایات پر ورکرز کنونشن کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور ویسے بھی رابطوں میں کمی کے خاتمے کے لیے ورکرز کنونشن انتہائی ضروری ہیں جسکےمستقبل میں  مثبت نتائج برآمد ہونگے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ورکرز سوشل میڈیا پر دھیان دیں کیونکہ اب سیاست 90 کی دہائی والی نہیں رہی ، سوشل میڈیا نے ہر کسی کو صحافی بنا دیا ہے  اس لئے  روایتی سیاست سے آگے بڑھتے ہوئے خود کو  بدلتے حالات کے مطابق ڈھالیں ،  وقت کے ساتھ آگے بڑھیں ،  سوشل میڈیا کے استعمال کو موثر بنائیں  اور عوامی روابط مستحکم کریں، لوگوں کے لیے جو کر رہے ہیں اور جو کرنا چاہتے ہیں اسکے بارے سوشل میڈیا پر آگاہی دیں۔

 وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پارٹی کو  موجودہ حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے تنظیم سازی کرنا ہو گی اور تمام عہدے پارٹی اور پارٹی قیادت کے مطمع نظر ہونے چاہیئں، 13 اگست 2023 کو موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی اور اسکے 90 دن بعد عام انتخابات ہونگے۔