سندھ کی سرزمین میں وہ کشش ہے  کہ  اس میں بسنے والوں کی اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے؛ میرچند اوڈ

11

میرپورخاص،07  دسمبر( اے پی پی):ریجنل ڈائریکٹر کالیجز میرچند اوڈ نے کہا ہے کہ سندھ کی سرزمین میں وہ کشش ہے  کہ  اس میں بسنے والوں کی اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے، سندھ میں  وقتن فہ وقتن جو بھی قومیں آباد ہوئیں آج وہ اپنے آپ کو سندھی کہلا رہی اور سندھی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔

ان خیالات کا  اظہار انہوں نے  گورنمنٹ  بوائز و گرلز  ڈگری  کالج شاھ عبدالطیف بھٹائی  میں سندھی ثقافت دن منانے کے سلسلے میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کے اوڈوں کی تاریخ 5 ہزار سال پرانی ہے مگر ہم گھروں میں اوڈکی اور باہر سندھی زبان بولتے ہیں۔

اس موقع پرریجنل ڈائریکٹر کالیجز میرچند اوڈ، پرنسپل گورنمنٹ بوائز ایس ایل کالج حامد اشرفی، پرنسپل ایس ایل گرلس کالیج عائشہ شہزادی خاصخیلی، پروفیسر اوصاف احمد خان، پروفیسر شائستہ ، مس مہتاب و دیگر نے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی دن منانے کامقصد اپنی ثقافت کو زندہ رکھناہے انسان کی فطرت ہےجس ماں کی کوکھ سے اور جس سر زمین پر اس کا جنم ہوتا ہے اس مٹی سے اس کی محبت ہوتی ہے۔

انہوں نے  کہا کہ  نبی پاک (صل اللہ علیہ والہ وسلم) کا فرمان ہے کہ جس سر زمین پر آپ پیدا ہوئے  اور جہاں آپ پلے بڑے وہی آپ کا دیس ہے ہم سندھ کی سرزمین پر پیدا ہوئے ہمیں یہاں دفن ہونا ہے اور یہ ہی ہماری ماں ہے، سندھ میں پیدا کی گئی محبت صوفیاع کرام کی بدولت پھیلائی گئی ہے، صوفیوں کا پیغام ہے کہ محبت  بڑہائیں نفرتیں ختم کریں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ سندھ   پاکستان کو جنم دینے والا صوبہ ہے،  سندھ کی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعلیم اور ہنر مندی میں اپنا لوہا منوائیں اور پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ  سندھ کی خوش حالی میں پاکستان کی خوش حالی ہے، پاکستان کو  70 فیصد روینیو دینے والا صوبہ سندھ ہے اگر سندھ خوشحال ہے تو پاکستان خوش حال ہے اگر جئے سندھ کا نعرہ لگا کر سندھ کو دعا دی جائے تو وہ پاکستان کے لیئے دعا ہے۔

 اس موقع پر طلبہ و  طالبات نے قرآن پاک کے تلاوت، دعا، نعت، وائی، ٹیبلو، قومی گیت کی بہتر پرفارمنس کر کے والدین اور آئے ہوئے مہمانوں کی توجہ اپنی طرف طرف مبذول کروائی۔

 اس موقع پر  ڈگری گرلس کالیج عمرکوٹ کی پرنسپل، ایڈیشنل ڈائریکٹر کالیجز، پروفیسر نوید سروش پروفیسر شکیل الرحمان  و دیگر موجود تھے۔