ہیٹنگ تمباکو مصنوعات انسانی صحت کے لیے اسی طرح نقصان دہ ہیں جیسے  تمباکو کی دیگر مصنوعات  ہیں؛ طبی ماہرین

22

اسلام آباد،7دسمبر  (اے پی پی):طبی و سماجی ماہرین نے کہا ہے کہ ہیٹنگ تمباکو مصنوعات انسانی صحت کے لیے اسی طرح نقصان دہ ہیں جیسےتمباکو کی دیگر مصنوعات  ہیں، تمباکو انڈسٹری ایک مرتبہ پھر پالیسی سازوں کو گمراہ کر کےایک نئی نقصان دہ پراڈکٹ کو پاکستان میں لیگل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس پر دنیا کے 12 سے زیادہ ممالک پہلے ہی پابندی عائد کر چکے ہیں جن میں آسٹریلیا، برازیل، ناروے اور سنگاپور شامل ہیں جبکہ یورپ بھی اس پر پابندی لگانے جا رہا ہے۔

 مقررین نے یہ بات بدھ کو پناہ کے زیر اہتمام” تمباکو مافیا کے پالیسی ساز اداروں کو گمراہ کرنے ہتھکنڈے”کے عنوان سےایک مشاورتی اجلاس میں کہی۔مری میں ہونے والے اجلاس کی میزبانی پناہ کے سیکرٹری جنرل ثنا اللہ گھمن نے کی۔ مہمانوں میں پارلیمانی سیکریٹری ہیلتھ ڈاکٹر شازیہ سومرو، قومی اسمبلی کے ممبران ڈاکٹر نثار چیمہ، عظمیٰ جدون، نزہت پٹھان، نوید انور جیوا، ڈاکٹر ثمینہ مطلوب، زہرا فاطمی، رامیش لال، پارلیمانی سیکرٹری تعلیم وجیہ قمر، سینیٹر ستارہ ایاز سمیت ایکو سے مہوش ظہیر اور سمیرا خالد شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوے ڈاکٹرنثار چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیع عوام کی صحت ہوتی ہے اور ہم عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تمباکو انڈسٹری اگرچہ بہت طاقتور ہے لیکن ہم عوام کی صحت کو بچانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے اور اسمبلی میں قانون سازی کے لیے آواز اٹھائیں گے۔  ڈاکٹر ثمینہ مطلوب نے کہا کہ تمباکو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصاندہ ہے اور اس پربھاری ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔

زہرہ فاطمی نے کہا کہ انسانی صحت کے لیے سیگریٹ سے زیادہ نقصان دہ کوئی چیز نہیں ہے۔ پھیپھڑوں کے کینسر سمیت بہت سی دیگر بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ اس کو عوام کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے ان پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جائیں۔ ستارہ ایاز نے کہا کہ ضروریات زندگی کی اشیاء  کی بجائے تمباکو جیسی مضر صحت اشیاء پر ٹیکس بڑھنا چاہیے۔

  اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ پناہ لوگوں کی صحت کے لیے وہ کام کر رہا ہے جو حکومتوں کے کرنے کا ہے۔ ہم پناہ کے اس مشن کے ساتھ کھڑے ہیں جو وہ تمباکو مافیا کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے کر رہا ہے  ۔وجیہہ قمر نے کہا کہ نوجوان ہماری قوم کا مستقبل ہیں ہمیں ہر حال میں انہیں تمباکو جیسی مضر صحت  اشیاء سے بچانا ہو گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثنا اللہ گھمن نے کہا کہ “پناہ” تمباکو  انڈسٹری کو بے نقاب کر تی رہی ہے اور آگے بھی  کرے گی۔ انڈسٹری کے   حربوں کی وجہ سے پاکستان میں ہر روز1200 نئے بچے تمباکو نوشی شروع کر رہے ہیں جس کے صحت اور معاش پر خوفناک نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔ اب یہ ہیٹنگ تمباکو پراڈکٹس کو یہ کہہ کرلیگل کروانا چاہتے ہیں کہ یہ صحت کے لیے کم نقصان دہ ہیں اور اس سے کم دھواں نکلتاہے۔حالانکہ ان کے بھی صحت پر وہی نقصان دہ اثرات ہیں جوسیگریٹ کے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی اس  میں کچھ نقصان دہ کیمیکلز شامل ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم اور کابینہ  کو اس سلسلے میں خطوط بھی لکھے ہیں کہ اسے کابینہ کے ایجنڈے سے فی الفور نکالا جائےاورتمام اسٹیک ہولڈرز کو بلا کر اس کے صحت اور اکانومی پر ہونے والے اثرات پر مشاورت کی جائے۔ہماری پارلیمینٹیرینز سے درخواست ہے کہ ہماری ان معروضات کو سنا جائے اور اس پر عمل درامد کیا جاے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق انسانی زندگیوں سے ہے ۔ تمباکو انڈسٹری صرف اپنے منافع کی خاطر لوگوں کو ہلاکت میں ڈال رہی ہے۔

 صوفیہ منصوری نے کہا کہ تمباکو انڈسٹری نت نئے ہتھکنڈوں سے پالیسی میکرز کو گمراہ کر رہی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ویلو کے نام سے پراڈکٹ لا رہے ہوتے ہیں اور کبھی شیشہ ۔ پالیسی ساز اداروں کو انڈسٹری کے ہتھکنڈوں کو سمجھنا ہوگا۔ہمارا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ انڈسٹری کے مفاد کے لیے عوام کی صحت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔