سید مصطفی ٰمحمود کی زیر صدارت  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس

20

اسلام آباد۔6دسمبر  (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منگل کو سید  مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے نجکاری عابد حسین بھائیو، وفاقی سیکرٹری نجکاری ڈاکٹر ارم اے خان، سی ای او میپکو، وزارت نجکاری، وزارت بجلی کے نمائندے بھی موجود تھے۔اجلاس میں ڈسکوزکی نجکاری پروگرام کے تحت ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے میپکو کی کارکردگی کے اشاریوں اور اس کی نجکاری کی تازہ ترین صورتحال پر غور کیا  جو ملک بھر میں بجلی کی تقسیم کاربڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ میپکو حکام نے کمپنی کا مالیاتی اور آپریشنل ڈیٹا پیش کیا، انہوں نے زیر التواء وصولیوں کی وجہ سے درپیش چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ میپکو حکام نے نیپرا کے منظور کردہ مسابقتی تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ ماڈل (سی ٹی بی سی ایم ) پر  اپنے تحفظات کا اظہار کیا اورکہاکہ اس ماڈل نے کچھ غیر حقیقی مفروضے  کئے  ہیں جومستقبل کی نجکاری یا ڈسکوز کی بحالی کے لئے بنائے جانے والے کنسیشن کنٹریکٹ ماڈل کو متاثر کر سکتا ہے،قومی اسمبلی کی کمیٹی کے اراکین نے مختلف ڈسکوز میں خدمات کے معیار پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اورقابلِ وصولی کے تناسب سے اتنی بڑی ادائیگی کے جواز پر  سوالات اٹھائے۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری عابد حسین بھائیو نے کہا کہ سندھ حکومت پہلے ہی بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں مصروف ہے، وفاقی سیکرٹری نجکاری ڈاکٹر ارم اے خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فی الحال  ڈسکو زکی نجکاری نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ (رعایت کنٹریکٹ ماڈل) کو پہلے سی سی او پی نے سندھ حکومت کی طرف سے دیگر تمام صوبوں کی طرف سے ظاہر کی گئی دلچسپی کے بعدمنظور کیا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ پی سی نے اس پالیسی اور ریگولیٹری معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ۔کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ موجودہ ڈسکوزکو مزید چھوٹے یونٹوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے اور حقیقی مسابقتی مارکیٹ کے لیے یکساں ٹیرف کی پالیسی کو بھی ختم کیا جانا چاہیے تاکہ ڈسکوز کو اپنے صارفین سے سروس کی حقیقی قیمت وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس مجوزہ میکانزم میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ڈسکوز کے لئے ان کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات پر کام کرنے کے لئے چیک اور بیلنس کا موروثی نظام ہوگا تاکہ ان کے صارفین کے لئے ٹیرف کو کم کیا جا سکے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اجلاس کے اختتام پرہدایت کی کہ توانائی کے شعبے پر غور و خوض کرنے کے لئے اوگرا، پی ایس او پاور ڈویژن، نیپرا کے نمائندے اس کےآئندہ جلاس میں شریک ہوں کیونکہ ان ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بجلی کی پالیسی اور نیشنل الیکٹرسٹی پلان میں نیپرا ایکٹ کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ان ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنا یا جاسکے ۔