اسلام آباد،16دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور داخلہ و قانون عطاءاللہ تارڑ نے کہاہے کہ عمران خان نے ملک کی عزت ووقار کو مجروح کیا ، 4.96ارب روپے مالیت کے تحائف ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے جمع کراکے خریدے گئے ،روزانہ ان کی کرپشن کی نئی نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں ،عمران خان نے توشہ خانہ سے اربوں روپے کی کرپشن اور فراڈ کیا،توشہ خانہ کے تحائف کو بیچا نہیں جا سکتا ، ملکوں کے سربراہان کو نایاب تحائف پیش کیے جاتے ہیں ،شرم کی بات ہے ایک گھڑی چور ملک کا وزیراعظم تھا ، خاتون اول کو ملنے والے سیٹ کی قیمت ایک ارب روپے سے زائد ہے ،اس سیٹ کو بھی چند لاکھ کے عوض خریدا گیا ، خاتون اول کو ملنے والی انگوٹھی کدھر گئی کسی کو نہیں پتا ۔جمعہ کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور داخلہ و قانون عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ توشہ خانہ کا بہت چرچا چلتا آ رہا ہے، کابینہ ڈویژن کے رولز کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔کابینہ رولز کے مطابق 30 ہزار سے اوپر کے تحائف کو آپ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں نہ کہ بیچ دیں ،خاتون اول کے لئے سونے کے بلغاریہ کے سیٹ جس کی مالیت سوا ارب تھی جبکہ اکاونٹ میں 29 لاکھ جمع کروائے گئے،گراف کمپنی نے خاتون اول کو ہیروں کا سیٹ گفٹ کیا جس کی قیمت 3.3 ارب ہے جبکہ اس کے صرف 90 لاکھ روپے جمع کروائے گئے ، میری گھڑی میری مرضی کہنے والے کو شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے 45کروڑ روپے کا تحفہ پانچ لاکھ روپے میں خریدا ، ہیروں ، گھڑیوں ،ہار کی مالیت سکستھ روڈ راولپنڈی کے پلازے سے لگوائی گئی ،رسید بھی ہاتھ سے بنوائی گئی اور تفصیلات بھی مکمل نہیں لکھی گئیں ۔
ایک سوال کے جواب میں عطاءتارڑ نے کہاکہ قانونی کارروائی کی جائے گی اور مال مسروقہ کی برآمدگی کا طریقہ کار اپنایاجائے گا ،مریم ارنگزیب گھڑی چور عمران خان کے خلاف بے باکی سے بولتی ہیں ، کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں تو عمران خان کے خوشامدی چند شرپسند وں نے ایک نوٹس دیاہے لیکن وہ نوٹس ردی کی ٹوکری میں جائے گا کیونکہ ان کا وزیرآباد کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ،جے آئی ٹی میں بلانے کی کوئی تک نہیں ہے ۔اگر بلانا ہے تو پرویز الہی کو بلائیں ،پوچھیں کہ لانگ مارچ میں اتنے لوگ مرگئے سیکورٹی کہاں تھی ،یہ سیکورٹی مریم اورنگزیب کے ذمے تھی یا پرویز الہی کے اور پولیس پرویز الہی کو رپورٹ کررہی ہے یا مریم اورنگزیب کو ۔اس بات کو جواب بالکل کلیئر ہے ۔ایک اورسوال کے جواب میں عطا تارڑ نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے نئی روایت قائم کرتے ہوئے تمام تحائف عوام کو دکھانے کے لیے رکھ دیئے ،میرا مرنا جینا یہیں پر ہے اور یہیں پر سیاست کرنی ہے ،جو بات کروں گا مکمل دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ کروں گا ۔ایک اور سوال کے جواب میں عطاءتارڑ نے کہاکہ اگر کرپشن کی بات ہوتی تو بیٹے سے تنخواہ لینے پر نااہل نہ کیاجاتا ،کرپشن کی ایک بھی چیز سامنے نہیں آئی ،ہم جو بات کررہے ہیں وثوق کے ساتھ اور ثبوتوں کے ساتھ کررہے ہیں ، مقدمات قانون اور ضابطے کے مطابق آگے چلیں گے ۔اگر حکومت انتقامی کارروائی کرتی تو عمران خان آج جیل میں ہوتا ،انتقامی کارروائی قطعا نہیں ہے ،جو میرٹ پہ چیزیں بنتی ہیں وہ اپنے وقت سے آئیں گی ،دیگر کیسز میں سیاسی بیانیہ تھا لیکن اس کیس میں تو برآمدگی ہوئی ہے ۔اب آپ کے پاس بچا کچھ نہیں تو بات چیت پہ آگئے ہیں بات چیت اپنے وقت پر ہوگی۔











